ابراہیمی معاہدہ مسترد ، ہمارے پاسپورٹ پر اسرائیل کا نام ہی نہیں : وزیر دفاع
بنیادی نظریات سے متصادم معاہدے میں شامل نہیں ہونگے ، امریکی محکمہ خارجہ یا کسی اور نے ہم سے رابطہ نہیں کیا غزہ معاہدے کی خلاف ورزی ہو رہی ،جن پر ایک دن کا بھی اعتبار نہ ہو ان کے ساتھ کیسے بیٹھا جا سکتا ہے :خواجہ آصف
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کیا گیاابراہیمی معاہدہ قابلِ قبول نہیں کیوں کہ یہ ہمارے بنیادی نظریات سے متصادم ہے ۔ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ ہم کسی ایسے معاہدے میں شامل ہوں گے جو ہمارے بنیادی نظریات سے متصادم ہو۔میرے ذاتی خیال میں معاہدہ ابراہیمی کے حوالے سے اس وقت ہم نے نہ کوئی اقدام لیا ہے اور نہ ہی پاکستان سے امریکی محکمہ خارجہ یا کسی بھی دوسرے فورم سے کوئی رابطہ کیا گیا ہے ، اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ،انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو ان لوگوں کے ساتھ کیسے بیٹھا جا سکتا ہے جن پر ایک دن کا بھی اعتبار نہ ہو،انہوں نے مزید کہا ہمارا واضح موقف ہے کہابراہیمیمعاہدہ ہمارے لیے قابلِ قبول نہیں،ہم واحد ملک ہیں جس کے پاسپورٹ پر اسرائیل کا نام ہی شامل نہیں ہے ۔ یاد رہے امریکی صدر ٹرمپ پاکستان سمیت تمام مسلم ملکوں سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلم ملکوں کے لیے ابراہیمی معاہدے پر دستخط کرنا لازمی ہے ، سعودی عرب اور قطر کو دستخط میں پہل کرنی چاہیے۔