جدید ٹیکنالوجی سے قانونی تعلیم تک مساوی رسائی ممکن:چیف جسٹس
وکلا کو پیشہ ورانہ قابلیت، مضبوط اخلاقی بنیادوں سے آراستہ کرنا ناگزیر:یحییٰ آفریدی بار کونسلز نصاب بارے تجاویز دیں:لا پروفیشنلز ای کورس کی تقریب سے خطاب
اسلام آباد (اے پی پی)چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحیی آفریدی نے کہا ہے کہ نوجوان وکلا کو عملی قانونی مہارتوں، پیشہ ورانہ قابلیت اور مضبوط اخلاقی بنیادوں سے آراستہ کرنا ایک موثر اور عوام دوست نظام انصاف کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے ، ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیمی پلیٹ فارمز ملک بھر میں قانونی تعلیم اور تربیت تک مساوی رسائی یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جاری اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس پاکستان نے ان خیالات کا اظہار سپریم کورٹ میں ای کورس فار لا پروفیشنلز 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد قانونی تعلیم اور عملی پیشہ ورانہ تربیت کے درمیان موجود خلا پر کرنا ہے تاکہ بالخصوص نئے وکلا کو پیشہ ورانہ میدان میں درپیش چیلنجز کا بہتر طور پر سامنا کرنے کے قابل بنایا جا سکے ۔ انہوں نے بار کونسلز کے نمائندوں کو ہدایت کی کہ کورس کے نصاب اور طریقہ کار سے متعلق اپنی تجاویز باضابطہ طور پر ڈائریکٹوریٹ آف لیگل ایجوکیشن کو ارسال کریں۔ تقریب میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، وفاقی جوڈیشل اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل حیات علی شاہ، پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین محمد مسعود چشتی، پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد بار کونسلز کے عہدیداروں نے شرکت کی۔