پنجاب :سولر اور نجی پاور یونٹس کیلئے نیا ڈیوٹی فریم ورک منظور
500 کے وی سے زائد صلاحیت والے یونٹس کی رجسٹریشن لازمی قراردیدی گئی صنعتی و کمرشل صارفین پر 4 پیسہ فی یونٹ الیکٹریسٹی ڈیوٹی عائد، گھریلو مستثنیٰ ہونگے
لاہور(محمد حسن رضا سے )پنجاب حکومت نے سولر اور بڑے نجی پاور یونٹس کیلئے نیا ریگولیٹری و ڈیوٹی فریم ورک نافذ کرنے کی منظوری دیدی اور پنجاب الیکٹریسٹی ڈیوٹی رولز 2026 فریم ورک منظور کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے تقریباً 25 سال پرانے قانونی تنازعے ، عدالتوں میں طویل مقدمات اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے بعد صوبے میں بڑے سولر سسٹمز، پرائیویٹ جنریٹرز اور سیلف جنریشن یونٹس کیلئے نیا ’’پنجاب الیکٹرسٹی ڈیوٹی رولز 2026‘‘ فریم ورک منظور کرلیا ۔ پنجاب کابینہ نے 2012 کے الیکٹرسٹی ڈیوٹی رولز ختم کرکے نجی بجلی پیداوار کی رجسٹریشن، مانیٹرنگ، انسپکشن اور ڈیوٹی وصولی کا نیا نظام نافذ کرنے کی منظوری دی ۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق پنجاب میں الیکٹرسٹی ڈیوٹی پہلے بھی وصول کی جارہی تھی تاہم سابقہ نظام زیادہ تر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے ذریعے گرڈ سپلائی تک محدود تھا۔ نجی طور پر بجلی پیدا کرنے والے بڑے صنعتی و کمرشل یونٹس، سولر سسٹمز اور کیپٹو پاور پلانٹس کی باقاعدہ رجسٹریشن، مانیٹرنگ اور الگ ڈیٹا بیس کا جامع نظام موجود نہیں تھا۔
یہ معاملہ 25 اگست 2001 میں اس وقت شروع ہوا جب پنجاب حکومت نے 500 کلوواٹ سے زائد صلاحیت رکھنے والے جنریٹرز سے اپنی ضروریات کیلئے بجلی پیدا کرنے والے صنعتی و کمرشل اداروں پر الیکٹرسٹی ڈیوٹی نافذ کی۔ بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے صنعتوں کو ریلیف دیا جبکہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا۔ سپریم کورٹ نے 29 فروری 2024 کو فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ صنعتی و کمرشل ادارے الیکٹریسٹی ڈیوٹی ادا کرنے کے پابند نہیں کیونکہ وہ بجلی کسی کو سپلائی نہیں کررہے ۔ بعد ازاں پنجاب حکومت کی دائر 46 ریویو پٹیشنز مسترد کردی گئیں۔ اس کے بعد پنجاب حکومت نے نیا قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک تیار کرنے کا فیصلہ کیا اور اب پنجاب کابینہ نے ’’پنجاب الیکٹرسٹی ڈیوٹی رولز 2026‘‘ کی منظوری دی ہے ، جس کے تحت پہلی مرتبہ 500 کے وی سے زائد صلاحیت رکھنے والے بڑے سولر سسٹمز، پرائیویٹ جنریٹرز اور دیگر سیلف جنریشن یونٹس کو واضح طور پر رجسٹریشن، مانیٹرنگ اور ڈیوٹی نیٹ میں شامل کیا جارہا ہے۔
دستاویزات کے مطابق صنعتی اور کمرشل صارفین پر 4 پیسہ فی یونٹ الیکٹریسٹی ڈیوٹی عائد کی جائے گی جبکہ گھریلو صارفین کو نئی ڈیوٹی سے مکمل استثنیٰ دیا جائے گا۔ اس اقدام سے پنجاب حکومت کو سالانہ 30 کروڑ 60 لاکھ روپے اضافی آمدن متوقع ہے ۔ نئے رولز کے تحت نجی پاور جنریشن رکھنے والے تمام بڑے یونٹس کیلئے رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے جبکہ صنعتی و کمرشل سیلف جنریشن یونٹس کو علیحدہ انرجی میٹر نصب کرنا ہوگا۔ حکومت نے سولر سمیت تمام بڑے سیلف جنریشن سسٹمز کا مکمل ریکارڈ رکھنے اور ان کا ڈیٹا بیس مرتب کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے ۔ غلط ریکارڈ فراہم کرنے کی صورت میں جرمانہ، کارروائی کی جاسکے گی۔