سول سرونٹس و اہلخانہ کی غیر ملکی شہریت کی ڈیکلیئریشن لازم قرار
پیشگی اجازت کے بغیر غیر ملکی شہریت یا سفری دستاویز حاصل نہیں کی جاسکیں گی جھوٹی معلومات یا چھپانے پر نوکری ختم:سول سرونٹس فارن نیشنلٹی رولز جاری
لاہور (محمد حسن رضا سے ) وفاقی حکومت نے تمام سول سرونٹس اور ان کے زیر کفالت افراد کیلئے غیر ملکی شہریت، غیر ملکی پاسپورٹس، ریذیڈنسی، امیگریشن سٹیٹس اور دیگر فارن ٹریول ڈاکومنٹس کی لازمی ڈیکلیئریشن کیلئے نئے قواعد نافذ کر دئیے ہیں۔اس حوالے سے سول سرونٹس ڈسکلوژر اینڈ ریگولیشن آف فارن نیشنلٹی رولز 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے ۔ نوٹیفکیشن کے مطابق نئے قواعد کا اطلاق تمام سول سرونٹس پر ہوگا۔رولز میں ’’فارن نیشنلٹی‘‘سے مراد پاکستان کے علاوہ کسی بھی ملک کی شہریت جبکہ ’’فارن کنٹری ٹریول ڈاکومنٹس‘‘سے مراد ایسے غیر ملکی دستاویزات لیے گئے ہیں جو کسی دوسرے ملک میں داخلے ، رہائش یا مستقبل میں امیگریشن کا حق دیتے ہوں۔قواعد کے تحت ہر سول سرونٹ کو تقرری کے وقت اپنے کیڈر ایڈمنسٹریٹر کو یہ ڈیکلیئریشن جمع کروانا ہوگی کہ آیا وہ یا اس کے زیر کفالت افراد کسی غیر ملکی ریاست کی شہریت یا سفری دستاویزات رکھتے ہیں یا نہیں۔
اگر کوئی افسر یہ ڈیکلیئریشن جمع نہ کروائے یا غلط معلومات فراہم کرے تو اس کی تقرری جوائننگ سے ہی ختم تصور ہوگی اور اسے کسی بھی وقت ملازمت سے فارغ کیا جا سکے گا۔ حکومت نے سالانہ ڈیکلیئریشن بھی لازمی قرار دی ہے ۔نئے قواعد کے مطابق موجودہ سول سرونٹس کو 90 روز کے اندر اپنی، اپنے شریک حیات اور مالی طور پر زیر کفالت بچوں کی مکمل تفصیلات جمع کروانا ہوں گی۔وفاقی حکومت نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی سول سرونٹ یا اس کا زیر کفالت فرد پیشگی اجازت کے بغیر غیر ملکی شہریت یا سفری دستاویز حاصل نہیں کر سکے گا۔نوٹیفکیشن میں خلاف ورزی کو بدانتظامی قرار دیتے ہوئے محکمانہ کارروائی، ملازمت سے برطرفی اور دیگر سزاؤں کی گنجائش رکھی گئی ہے ،تاہم پیدائشی یا نسلی بنیاد پر دوسری شہریت رکھنے والے افراد کو بعض صورتوں میں استثنیٰ بھی دیا گیا ہے۔