پختونخوابحران پی ٹی آئی کی سیاست اور مستقبل کیلئے لمحہ فکریہ
پارلیمانی پارٹی اجلاس میں اراکین کی غیر حاضری سے اختلافات کی شدت واضح
(تجزیہ :سلمان غنی )
پی ٹی آئی کے اندر حالیہ مہینوں میں اختلافات میں ہونے والے اضافے نے خیبرپختونخوا حکومت کے بارے میں کئی سوالات کھڑے کر د ئیے ہیں، تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ حکومت کسی بڑے خطرے سے دوچار ہے کیونکہ باوجود اراکین کے تحفظات کے پی ٹی آئی کے پاس اب بھی اکثریت موجود ہے ۔البتہ اختلافات کا سلسلہ رک نہیں پا رہا اور بڑا سوال یہی ہے کہ پی ٹی آئی اپنے ہی صوبے میں مشکلات سے کیوں دوچار ہے اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف شکایات میں حقائق کیا ہیں، جبکہ پارلیمانی پارٹی کے بعض اراکین وزیراعلیٰ سے ناراض کیوں ہیں؟۔اختلاف کرنے والے اراکین کا موقف ہے کہ وزیراعلیٰ کے اراکین سے رابطے کمزور ہیں، وہ چند مخصوص اراکین کے حلقے میں محدود ہیں اور دیگر اراکین کی کالز بھی اٹینڈ نہیں کرتے اور نہ ہی ان کے حلقوں کے مسائل میں دلچسپی لیتے ہیں۔دوسری جانب بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ان اراکین کو علی امین گنڈاپور کی تائید حاصل ہے اور وہ ایک مخصوص سیاسی ایجنڈے کے تحت سرگرم ہیں، جس سے وزیراعلیٰ کی حکومت کیلئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وزیراعلیٰ کی اصل ترجیح اپنی حکومت کی بقا ہے ، جبکہ پارٹی لیڈر شپ کی رہائی اور ریلیف ان کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا، اور اسلام آباد بھی اس صورتحال پر زیادہ پریشان نظر نہیں آتا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی کا اصل چیلنج بیرونی دباؤ نہیں بلکہ اندرونی اختلافات اور تنظیمی ہم آہنگی کا فقدان ہے ، جبکہ حکومت کی بقا کا انحصار اس بات پر ہے کہ پارٹی اپنے داخلی اختلافات پر کس حد تک قابو پاتی ہے ۔ذرائع کے مطابق دو درجن سے زائد اراکین اسمبلی نے گورننس، ترقیاتی فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم اور من پسند افراد کو نوازنے جیسے معاملات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ ان کی بڑی شکایت یہ ہے کہ وزیراعلیٰ ان سے رابطہ نہیں رکھتے ۔اگرچہ وزیراعلیٰ ان اراکین کو منانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ملاقاتیں بھی ہو رہی ہیں، تاہم پارلیمانی پارٹی کے حالیہ اجلاس میں بڑی تعداد میں اراکین کی غیر موجودگی نے اختلافات کی شدت کو واضح کر دیا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اختلافات کی اصل وجہ وزیراعلیٰ کا طرزِ حکمرانی ہے ، جبکہ بعض اراکین علی امین گنڈاپور کے طرزِ سیاست کو بھی بہتر سمجھتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں اگر وزیراعلیٰ اراکین کو منانے میں کامیاب نہ ہوئے تو بجٹ سے قبل حکومت کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے ۔سیاسی ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال حکومت کے فوری خاتمے کی طرف اشارہ نہیں کرتی، تاہم یہ بحران پارٹی سیاست اور مستقبل کیلئے لمحہ فکریہ ضرور ہے۔