سپریم کورٹ آرڈر کے سب پابند ، کیس کیلئے اپنی ٹریننگ کلاس مس کر دی : جسٹس اعظم خان

 سپریم کورٹ آرڈر  کے سب پابند ، کیس کیلئے اپنی ٹریننگ  کلاس مس کر دی : جسٹس اعظم  خان

میں میڈی ایشن ٹریننگ کیلئے نامزد، صرف اس کیس کیلئے یہاں موجود، سپریم کورٹ آرڈر پر یہ درخواستیں لگائیں:ریمارکس ٹویٹس کیس میں سزا معطلی درخواستوں پر سماعت ملتوی، NCCIAکی 12مئی کا حکم نامہ واپس لینے کی سپریم کورٹ میں درخواست

اسلام آباد (اپنے نامہ نگار سے ، کورٹ رپورٹر)اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازعہ ٹویٹس کیس میں سزایافتہ وکلاء ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سپیشل پراسیکیوشن ٹیم کی عدم دستیابی کے باعث سماعت بغیر کارروائی ملتوی کردی۔ عدالت کو  بتایاگیاکہ پراسیکیوشن ٹیم کے تین ممبرز تعینات ہوئے وہ ابھی دستیاب نہیں۔ جسٹس اعظم خان نے کہا میرا نام میڈی ایشن ٹریننگ کیلئے نامزد ہوا، صرف اس کیس کیلئے یہاں موجود ہوں، پراسیکیوٹر سے کہا آپ کو پتہ ہے اس کیس میں سپریم کورٹ کا آرڈر ہے ؟ ریاست علی آزاد ایڈووکیٹ نے کہا سپریم کورٹ کی جانب سے دیا گیا وقت ختم ہو چکا ہے ، جسٹس اعظم خان نے کہا ہم نے سپریم کورٹ کے آرڈر کی روشنی میں یہ درخواستیں لگائی ہیں۔ فیصل صدیقی نے کہا پراسیکیوٹر جب کورٹ ون سے فری ہو جائیں اس وقت کیس سن لیں،جسٹس اعظم خان نے کہا میں نے صبح 8.30 کی اپنی ٹریننگ کلاس مِس کر دی۔

پراسیکیوٹر نے استدعا کی کہ کیس جمعرات یا آئندہ پیر کو رکھ لیا جائے ،جسٹس اعظم خان نے فیصل صدیقی سے استفسار کیاکہ آپ دستیاب ہونگے ؟ جمعرات کیلئے کیس رکھ رہا ہوں، فیصل صدیقی نے کہا پراسیکیوشن کو پابند کر دیں مزید التوا نہیں مانگیں گے ،جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیئے اب بار بار کہنا اچھا تو نہیں لگتا،سپریم کورٹ کے آرڈر کے ہم سب پابند ہیں، عدالت نے مزید سماعت 4 جون تک ملتوی کر دی۔ ادھر قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ادارے (NCCIA) نے وکیل ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطلی کے مقدمہ میں سپریم کورٹ کا 12 مئی کا حکم نامہ واپس لینے کی درخواست دائر کر دی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ہائیکورٹ میں زیر التوا مقدمات میں سپریم کورٹ مداخلت نہیں کر سکتی۔ 12 مئی کے حکم نامہ میں سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کو بعض ہدایات جاری کی تھیں، استدعا ہے کہ 12 مئی 2026 کا حکم نامہ واپس لیا جائے۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں