مستثنیٰ افراد پر اضافی سیلز ٹیکس نہیں لگ سکتا، آئینی عدالت

 مستثنیٰ افراد پر اضافی سیلز ٹیکس نہیں لگ سکتا، آئینی عدالت

لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم،پولٹری فیڈ مینوفیکچررز کی درخواستیں منظور

اسلام آباد (اے پی پی)سیلز ٹیکس سے قانونی طور پر مستثنٰی اور رجسٹریشن سے مبرا افراد کو سامان کی فراہمی کی بنیاد پر سپلائرز سے 4 فیصد اضافی سیلز ٹیکس وصول نہیں کیا جا سکتا،  وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیتے ہوئے پولٹری فیڈ مینوفیکچررز اور پولٹری فارمرز کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محمد کریم خان آغا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پولٹری فیڈ انڈسٹری سے متعلق پانچ درخواستوں پر مشترکہ فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کا 4 دسمبر 2025 کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ٹیکس حکام کے احکامات بھی منسوخ کر دیئے ۔ عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ دفعہ 3(1A) کا مقصد کاروباری افراد کو سیلز ٹیکس رجسٹریشن حاصل کرنے اور فعال ٹیکس دہندہ بننے کی ترغیب دینا ہے تاہم جن افراد کو قانون نے خود سیلز ٹیکس سے استثنٰی دے رکھا ہو اور جن کے لیے رجسٹریشن لازمی نہ ہو، ان پر اس دفعہ کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔فیصلے میں کہا گیا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ کی دفعات 3(1A)، 13، 14 اور 2(41) کو یکجا طور پر پڑھنے سے واضح ہوتا ہے کہ پولٹری فارمرز قانونا رجسٹریشن کے پابند نہیں، اس لیے ان کو سامان فراہم کرنے والے پولٹری فیڈ مینوفیکچررز پر اضافی ٹیکس عائد کرنا قانون کے منشا کے خلاف ہے ۔وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو غلط قانونی تشریح قرار دیتے ہوئے تمام درخواستیں منظور کر لیں۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں