بجٹ میں برآمد کنندگان پر ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ
ایڈوانس ٹیکس ختم ہونے سے ایکسپورٹرز کو 60 ارب روپے تک ریلیف ملنے کا امکان، ٹیکس ریفنڈ کلیمز بھی ختم ہو جائینگے بیوٹی پارلرز، جلدی کلینکس اور ہیلتھ کلب آلات پر ڈیوٹی میں کمی متوقع، درآمدی میک اپ مصنوعات کو 40 فیصد تک ریلیف پٹرولیم مصنوعات پر کلائمیٹ لیوی 2.5 سے بڑھا کر 5 روپے فی لٹر کرنیکی تجویز، ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ ختم ہونے کا امکان
اسلام آباد (مدثر علی رانا)باوثوق ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں برآمدکنندگان پر عائد ایک فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس ختم کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے ۔ اس اقدام سے ایکسپورٹرز کو تقریباً 60 ارب روپے تک ریلیف ملنے کا امکان ہے جبکہ برآمدی شعبے کے ٹیکس ریفنڈز سے متعلق دیرینہ مسائل بھی حل ہو سکیں گے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بھی مشاورت کی گئی ہے ۔ برآمدکنندگان کا مؤقف تھا کہ ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس کے باعث ان کے ریفنڈ کلیمز طویل عرصے تک زیر التوا رہتے ہیں۔ مجوزہ اقدام کے بعد ریفنڈ کلیمز کا مسئلہ بڑی حد تک ختم ہو جائے گا اور برآمدی شعبے کو نقدی کی دستیابی میں سہولت ملے گی۔ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں بیوٹی پارلرز، جلد کی نگہداشت کے مراکز، ہیلتھ کلبز اور متعلقہ مشینری و آلات پر کسٹمز ڈیوٹی میں مزید 2 سے 5 فیصد کمی کی تجویز زیر غور ہے ۔ درآمدی میک اپ مصنوعات، سن بلاک، سن سکرین، بیوٹی پارلرز کے خام مال اور بالوں کی نگہداشت سے متعلق اشیا پر ڈیوٹی 44 فیصد سے کم کر کے 40 فیصد تک لائی جا سکتی ہے ۔اسی طرح مردانہ سیلونز میں استعمال ہونے والی شیونگ کریم، آفٹر شیو لوشن، فیس واش، صابن اور دیگر مصنوعات پر ڈیوٹی 40 فیصد سے کم کر کے 35 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے ۔
جلد کی نگہداشت اور فیشل مصنوعات پر بھی ڈیوٹی میں کمی متوقع ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ حکومت آئندہ مالی سال میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، چائے ، کیچپ، کوکنگ آئل، ویجیٹیبل گھی، خشک دودھ اور دیگر متعدد اشیائے خورونوش پر سیلز ٹیکس وصولی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کیلئے ان کی پیکنگ پر پرچون قیمت کی لازمی طباعت کا فیصلہ کر رہی ہے ۔ اس مقصد کیلئے ان اشیا کو سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔دوسری جانب یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر عائد کلائمیٹ سپورٹ لیوی دوگنا کئے جانے کا امکان ہے ۔ ذرائع کے مطابق لیوی کی شرح 2.5 روپے فی لٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لٹر کی جا سکتی ہے ، جس سے آئندہ مالی سال کے دوران 90 ارب روپے سے زائد آمدن متوقع ہے ۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سابق قبائلی اضلاع (ضم شدہ اضلاع) کیلئے جاری ٹیکس استثنیٰ بھی ختم کئے جانے کا امکان ہے ۔ دریں اثنا قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا اہم اجلاس 8 جون کو طلب کر لیا گیا ہے ، جس کی صدارت وزیراعظم کریں گے ۔ اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزرا، وزیراعظم آزاد کشمیر اور متعلقہ حکام شرکت کریں گے ، جبکہ آئندہ مالی سال کے ترقیاتی اور اقتصادی اہداف کا جائزہ لیا جائے گا۔