گلگت بلتستان: وزیر اعلیٰ پیپلز پارٹی ، گورنرن لیگ کا ہو گا : ذرائع

 گلگت بلتستان: وزیر اعلیٰ  پیپلز پارٹی ، گورنرن لیگ کا ہو گا : ذرائع

مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی کا پی ڈی ایم طرز کا اتحاد ، وزارتوں کی تقسیم کیلئے فارمولا طے کیا جائے گا،مشاورت اور رابطے شروع 20 نشستوں کے غیر سرکاری نتائج،پیپلزپارٹی کی9سیٹوں کیساتھ برتری ،ن لیگ کی 4سیٹیں،6آزاد امیدوار کامیاب قرار

اسلام آباد (سہیل خان)گلگت بلتستان میں عام انتخابات کے بعد مسلم لیگ(ن)اور پی پی نے اتحاد سے حکومت بنانے کیلئے  مشاورت اور رابطے شروع کر دئیے ۔ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان میں پی پی سنگل لارجسٹ پارٹی بن گئی اور اس کا ن لیگ سے اتحاد پی ڈی ایم طرز پر ہوگا، گلگت بلتستان میں وزیراعلیٰ پیپلزپارٹی ، گورنر مسلم لیگ(ن) کا ہوگا۔مسلم لیگ(ن) اور پی پی کی اتحادی حکومت میں وزارتوں کی تقسیم کا 60/40 کا فارمولا ہوگا، اس حوالے سے بلاول بھٹو زرداری ،قمرزمان کائرہ ،شیری رحمن،نیئر بخاری ،ندیم افضل چن اور مہدی شاہ (ن)لیگ سے رابطے کر ینگے ۔ صدر زرداری کو حتمی فیصلہ سے آگاہ کیا جائے گا۔

 گلگت( اے پی پی ،مانیٹرنگ ڈیسک)گلگت بلتستان کی 24 میں سے 20 نشستوں کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج  آگئے ،پیپلزپارٹی نے 9سیٹیں جیت کر واضح برتری حاصل کر لی ،ن لیگ کی 4سیٹیں جبکہ6آزاد امیدوار کامیاب قرار دئیے گئے ہیں ۔ گلگت ون سے پیپلزپارٹی کے امجد ایڈووکیٹ 10594 ، جی بی 10 سکردو 4 سے پیپلزپارٹی کے ناصر خان 6582 ،جی بی 19 غذر ون سے پی پی امیدوار جلال شاہ 9303 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے ہیں،اس سے قبل پیپلزپارٹی کے توقیر مہدی، علی اختر،فدا ناشاد،اقبال حسن ،عمران ندیم،ذوالفقار مراد کی کامیابی کا اعلان ہو چکا ہے ، جی بی 6 ہنزہ سے آزاد امیدوار نیک نام کریم 6390 ، جی بی 15 دیامر ون سے آزاد امیدوار دلپذیر5680 ،جی بی 16 دیامر ٹو سے آزاد امیدوار امام مالک 6320 ، جی بی 21 غذر تھری سے آزاد امیدوار امان عامر 9938 ووٹ لے کر جیتے ہیں۔

اس سے قبل آزاد امیدواروں اسد شفیق، انور علی کی کامیابی کا اعلان ہو چکا ہے ، جی بی 18 دیامر فور سے ن لیگ کے کفایت الرحمن 5521 اور جی بی 20 غذر ٹو سے ن لیگ کے عبدالجہان 6917 ووٹ لیکر جیت گئے ،اس سے پہلے حفیظ الرحمٰن ،ابراہیم ثنائی کو کامیاب قرار دیا گیا تھا ۔ادھر سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان مسلم لیگ (ن)گلگت بلتستان کے صدر حفیظ الرحمن نے دعویٰ کیا ہے کہ دو آزاد امیدوار جو مسلم لیگ (ن)کی حمایت سے کامیاب ہوئے ہیں کو شامل کرنے کے بعد پارٹی نشستوں کی تعداد 11 بنتی ہے ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے انہوں نے کہا اس مرتبہ مخلوط مینڈیٹ سامنے آیا ،فی الحال یہ واضح نہیں کہ کس جماعت کے پاس کتنی حتمی نشستیں ہیں،توقع ہے کہ ایک دو دن میں صورتحال واضح ہو جائیگی اور مسلم لیگ (ن)کے نمبر مزید بہتر نظر آئیں گے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں