سمندروں کے درجہ حرارت، سطح میں اضافہ خطرناک:اقوام متحدہ
برفانی ذخائر کم، سمندری ماحولیاتی نظام دباؤ کا شکار، موسمی تبدیلی اثرات سنگین سمندری حیات کی بقا کے امکانات محدود ہو رہے :تیسری ورلڈ اوشن اسیسمنٹ
اسلام آباد (ماہتاب بشیر)پاکستان میں بیشتر علاقوں میں شدید گرمی کی لہر برقرار ہے جبکہ ماہرین موسمیات عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے اثرات کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کے سمندر "گہرے بحران"سے دوچار ہیں اور اگر فوری عالمی اقداما ت نہ کیے گئے تو اس کے اثرات پوری دنیا، بالخصوص موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک پر مزید سنگین ہوں گے ۔فرانس کے دارالحکومت پیرس میں اقوام متحدہ کی اوشیئن کانفرنس کے موقع پر جاری تیسری ورلڈ اوشن اسیسمنٹ میں کہا گیا ہے کہ سمندروں کا درجہ حرارت اور سطح دونوں تیزی سے بڑھ رہے ہیں، برفانی ذخائر سکڑ رہے اور سمندری ماحولیاتی نظام شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ 1955 کے بعد سمندروں میں جمع ہونے والی اضافی حرارت کا تقریباً 16 فیصد حصہ صرف 2018 کے بعد کے برسوں میں ریکارڈ کیا گیا۔
سمندر فوسل فیولز کے استعمال سے پیدا ہونے والی اضافی حرارت کا 90 فیصد سے زیادہ اور فضا میں خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تقریباً 30 فیصد جذب کر چکے ہیں، جس کے نتیجے میں سمندری سطح میں اضافہ تیز ہو گیا ہے ۔ 2023 میں سمندری سطح بڑھنے کی شرح 4.3 ملی میٹر سالانہ تک پہنچ گئی، جو 2015 سے پہلے کی شرح کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہے ۔ رپورٹ کے مطابق آرکٹک سمندر رواں صدی کے وسط تک گرمیوں کے اختتام پر برف سے تقریباً خالی ہو سکتا ہے جبکہ بعض ماہرین کے مطابق یہ صورتحال 2030 کی دہائی میں بھی پیدا ہو سکتی ہے ۔ دوسری جانب انٹارکٹکا میں بھی سمندری برف کے پھیلاؤ میں 2016 کے بعد تیزی سے کمی ریکارڈ کی گئی ہے ۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث کئی مچھلیوں کی اقسام نسبتاً ٹھنڈے یا گہرے پانیوں کی جانب منتقل ہو رہی ہیں جبکہ بعض انواع کے لیے بقا کے امکانات محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ بڑھ گیا تو دنیا کی 90 فیصد مرجانی چٹانیں ختم ہو سکتی ہیں۔