فضائی حادثہ قتل ِ عمد نہیں قتل بالسبب:سپریم کورٹ
ایسے واقعات میں جان بوجھ کر قتل کا عنصر نہیں، عدالتی مداخلت بلا جواز، اپیل منظور
اسلام آباد (اے پی پی)سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ غفلت یا تکنیکی خرابی کے باعث پیش آنے والا فضائی حادثہ جس میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہو قتلِ عمد کے بجائے قتل بالسبب کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ ایسے واقعات میں موت واقع کرنے کی نیت یا علم (Mens Rea)موجود نہیں ہوتا۔ جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے بھوجا ایئر کی پرواز بی 4-213 کے 2012 کے فضائی حادثے سے متعلق مقدمے میں اپیل منظور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے تحریری حکم نامے میں قرار دیا کہ 20 اپریل 2012 کو بھوجا ایئر کی پرواز کے حادثے کے بعد تھانہ کورال اسلام آباد میں درج مقدمات میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی تھیں تاہم ٹرائل کورٹ نے چالان موصول ہونے کے بعد یہ قانونی سوال پہلے طے کیا کہ آیا الزامات قتلِ عمد کے زمرے میں آتے ہیں یا قتل بالسبب کے۔
سیشن جج نے دستیاب مواد کا جائزہ لینے کے بعد درست طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ مقدمہ بادی النظر میں قتلِ عمد کے بجائے قتل بالسبب کا بنتا ہے ، لہذا کیس مجاز مجسٹریٹ کو بھجوانا قانون کے مطابق تھا۔ ٹرائل کورٹ کے حکم میں ایسی کوئی قانونی خامی نہیں تھی اس لیے ہائیکورٹ کی مداخلت بلاجواز تھی۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جائیداد کا ایک شریک مالک بھی دیگر شریک مالکان کی نمائندگی کرتے ہوئے کرایہ دار کی بے دخلی کیلئے درخواست دائر کرنے کا قانونی اختیار رکھتا ہے اور اس مقصد کے لیے تمام شریک مالکان کو مقدمے میں فریق بنانا ضروری نہیں۔ چیف جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کوئٹہ میں دکانوں سے متعلق کرایہ داری تنازع پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کرایہ داروں کی اپیلوں کی اجازت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔