امن معاہدہ کے باوجود آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدانتہائی کم

 امن معاہدہ کے باوجود آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدانتہائی کم

10سے 14جون کے دوران 29بحری جہازوں کا گزرنا ریکارڈ کیا گیا

اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)امریکہ ایران معاہدے کی تاریخ اور مقام طے ہو گیا ہے لیکن آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد انتہائی کم ہے ۔ سفارتی پیش رفت کے باوجود تجارتی سرگرمیاں ابھی تک معمول کی سطح پر بحال نہیں ہو سکیں۔ مارکیٹ انٹیلیجنس اور شپنگ ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے کیپلر کے مطابق 10 سے 14 جون کے دوران آبنائے ہرمز سے 29 تصدیق شدہ بحری جہازوں کا گزرنا ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ ان جہازوں میں خام تیل، ریفائن شدہ مصنوعات، ایل پی جی، کیمیکلز، میتھانول اور دیگر تجارتی سامان کی نقل و حمل ہوئی ہے ، بحری سرگرمی کا زیادہ تر حصہ 11 اور 12 جون کو دیکھنے میں آیا۔ مزید بتایا گیا ہے کہ بحری آمدورفت میں تاحال واضح عدم توازن موجود ہے ۔ 29 میں سے 23 جہاز خلیج فارس سے آبنائے ہرمز عبور کر کے خلیج عمان اور عالمی منڈیوں کی جانب روانہ ہوئے ، جبکہ صرف 6 جہاز مخالف سمت میں خلیج فارس میں داخل ہوئے۔

یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگرچہ آبی گزرگاہ کھلی اور فعال ہے ، تاہم شپنگ کمپنیاں اور تجارتی آپریٹرز ابھی تک مکمل اعتماد کے ساتھ معمول کی سرگرمیاں بحال نہیں کر سکے اور سکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کیپلر کے مطابق 18 بحری جہازوں کی گزران کو ڈارک یا نامعلوم راستہ قرار دیا گیا ہے ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہازوں کی نقل و حرکت کی مکمل نگرانی اب بھی ممکن نہیں۔ اسی عرصے میں دو ایسے بحری جہاز بھی آئے ہیں جو بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں ہیں۔ اسی طرح 15 جون تک صرف پانچ تصدیق شدہ بحری گزرگاہیں ریکارڈ کی گئیں، جن میں زیادہ تر کم خطرے والی نقل و حرکت شامل تھی۔ ان میں تین تجارتی جہاز بھی شامل تھے جو ڈی پی پی اور سٹیل کا سامان لے جا رہے تھے ۔ یہ اعداد و شمار امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات میں پیش رفت کی خبروں سے مطابقت رکھتے ہیں، تاہم بحری تجارت ابھی تک مکمل طور پر معمول پر نہیں آ سکی۔

اگرچہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کے حوالے سے ابتدائی مفاہمت ہو چکی ہے اور ایران،امریکہ کے درمیان معاہدہ جمعے کے دن سوئٹزرلینڈ میں ہونے والا ہے ، لیکن تاجروں کاابھی بھی پورااعتمادبحال نہیں ہوا کہ جہاز آزادی کے ساتھ آمدورفت کر سکیں، کیپلر کے مطابق 10 جون کے بعد کسی اور بحری جہاز پر حملے کی اطلاع نہیں ملی، جس سے خطے میں سکیورٹی صورتحال نسبتاً مستحکم دکھائی دیتی ہے ۔ تاہم کم سطح کی بحری سرگرمی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی منڈی اور شپنگ کمپنیاں ابھی بھی مکمل اعتماد کے ساتھ معمول کی کارروائیاں بحال کرنے سے قبل مزید واضح سکیورٹی یقین دہانیوں کی منتظر ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں