عمران اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر 7 روز میں دستخط کرانے کا حکم
اسلام آبا د ہائیکورٹ کی ایڈووکیٹ جنرل آفس کو عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت،سماعت جون کے آخری ہفتے تک ملتوی عمران سے کے پی بجٹ پر مشاورت کیلئے ملاقات کی درخواست پرکیس کی فائل نئے بینچ کی تشکیل کیلئے چیف جسٹس کو ارسال
اسلام آباد (اپنے نامہ نگار سے ،کورٹ رپورٹر) اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط کروا کر فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل آفس کو سات روز میں عدالتی حکم پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل دو رکنی ڈویژن بینچ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا کے خلاف دائر اپیلوں اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواستوں کی سماعت کی۔دوران سماعت بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ 30 اپریل کے عدالتی حکم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے لیے وکالت نامے درکار ہیں تاہم جیل حکام اب تک ان پر دستخط نہیں کروا رہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اگر درخواست گزار اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنا چاہتے ہیں تو انہیں وکالت نامے ملنے چاہئیں،نیب کے سپیشل پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ وکالت ناموں کا معاملہ نیب سے متعلق نہیں۔بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیل حکام اپیل کا وقت گزرنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس پر عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل آفس کو حکم دیا کہ سات روز کے اندر وکالت ناموں پر دستخط کرا کر فراہم کئے جائیں اورمزید سماعت جون کے آخری ہفتے تک ملتوی کر دی ۔دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے خیبرپختونخوا کے بجٹ پر مشاورت کیلئے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سے متعلق کیس میں فائل نئے بینچ کی تشکیل کیلئے چیف جسٹس کو بھجوا دی۔درخواست وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور مزمل اسلم کی جانب سے دائر کی گئی تھی ۔