جنگ بندی دھری کی دھری رہ گئی:لبنان پر حملے،47افراد شہید،4اسرائیلی فوجی ہلاک،سوئٹرز لینڈ میں امریکا ،ایران مذاکرات منسوخ

جنگ  بندی  دھری  کی  دھری  رہ  گئی:لبنان   پر   حملے،47افراد  شہید،4اسرائیلی  فوجی  ہلاک،سوئٹرز  لینڈ  میں  امریکا ،ایران  مذاکرات  منسوخ

’’لبنان کو جلنا ہوگا، ایک اسرائیلی ماں کے بہنے والے ہر آنسو کے بدلے 1000لبنانی ماؤں کو رونا ہو گا‘‘اسرائیلی وزیر غصے سے پاگل ، معاہدے کی خلاف ورزی کا ذمہ دار امریکا :عراقچی ایران ہم سے مجبوری میں ملا ، اسے ایک پیسہ نہیں دیا جائیگا :ٹرمپ ، آبنائے ہرمز دوبارہ بند نہیں کی :ایران ، اسرائیلی حملوں کیخلاف لبنان کی سرزمین اور عوام کا دفاع کرینگے :حزب اللہ

بیروت (اے ایف پی)جمعہ کے روز لبنان میں ایک بار پھر شدید لڑائی بھڑک اٹھی ہے ، جس کے نتیجے میں لبنانی حکام نے اسرائیلی فضائی حملوں میں 47 افراد کی شہادت اور اسرائیل نے اپنے چار فوجیوں کی موت کا اعلان کیا ہے ۔اسرائیل اور حزب اللہ میں جنگ بندی پر اتفاق کے باوجود جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملے جاری رہے ۔ یہ خونریزی مشرقِ وسطیٰ کی وسیع تر جنگ کو روکنے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کے بعد بدترین ہے ، جس کے تحت لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بھی لڑائی روکی جانی تھی۔جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے امریکا -ایران مذاکرات منسوخ کر دیے گئے ، جس سے ان مذاکرات کے وقت کے حوالے سے نئی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جو عالمی جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بحالی کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی اہم ہیں ۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ‘آبنائے ہرمز کی بندش’ سے متعلق میڈیا کی بعض خبروں کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ‘ہم ایران سے مجبوری میں نہیں ملے ، ایران ملا۔ وہ ختم ہو چکے ہیں! ہم 60 دن پورے کریں گے ۔’انھوں نے ٹروتھ سوشل پر اپنی مختصر پوسٹ میں لکھا کہ ‘انھیں (ایران کو) کوئی رقم نہیں ملے گی، ایک پیسہ بھی نہیں۔لبنان کی سرکاری 'نیشنل نیوز ایجنسی نے جنوبی علاقے جزین پر ایک تازہ اسرائیلی حملے کی اطلاع دی ، اس سے کچھ ہی دیر قبل ایک امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے ۔این این اے کے صحافی نے صور کے علاقے پر ڈرونز کے پرواز کرنے کی بھی اطلاعات دیں ، جبکہ اے ایف پی کے نامہ نگار نے جنوبی قصبے نبطیہ میں مسلسل توپ خانے کی گولہ باری کی آوازیں سنیں۔امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ یہ جنگ بندی امریکا اور قطر کے ثالثوں نے اسرائیل اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے بعد طے کرائی تھی۔ بعد ازاں ایک خلیجی سفارت کار نے بھی تصدیق کی کہ اس جنگ بندی کے لیے قطر، امریکا اور ایران نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔تاہم، اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے جنگ بندی کی تصدیق کے لیے اے ایف پی کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے کہا کہ معاہدوں سے متعلق تمام معاملات سیاسی قیادت کا دائرہ اختیار ہیں... ہم موصول ہونے والی ہدایات کے مطابق اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے ۔

لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں اور شدید بمباری کے نتیجے میں 7 خواتین اور 2 بچوں سمیت کم از کم 47 افراد شہید اور 97 زخمی ہوئے ہیں۔ ویڈیو میں دکھایا گیا کہ صیدا شہر میں سینکڑوں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور لوگ جنوبی علاقوں سے جان بچا کر بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں۔دوسری طرف اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ "آدھی رات سے اب تک لبنان میں آئی ڈی ایف (اسرائیلی فوج) نے 150 سے زائد حملے کیے ہیں"۔فوج نے مزید کہا کہ اس نے نبطیہ اور جنوبی لبنان کے دیگر علاقوں میں "حزب اللہ کے 80 سے زائد کمانڈ سینٹرز، جنگجوؤں، لانچنگ پوزیشنز اور دیگر دہشت گردانہ انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے ، جس میں کمانڈ سینٹرز میں موجود حزب اللہ کے درجنوں ارکان کو ختم کر دیا گیا ہے "۔ادھر ایران نواز گروپ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ وہ نبطیہ کے گرد و نواح میں اسرائیلی افواج پر جوابی حملے کر رہا ہے ۔اسرائیلی حملوں میں مشرقی لبنان کی وادی بقاع کو بھی نشانہ بنایا گیا، جو مارچ میں تنازع کے آغاز سے اب تک بڑے پیمانے پر ان حملوں سے محفوظ رہا تھا۔اس سے قبل اسرائیلی فوج نے بتایا تھا کہ لیفٹیننٹ کرنل ڈور گیڈالیا بین سیمہون تین دیگر فوجیوں کے ہمراہ "دورانِ مہم مارے گئے "۔

اسرائیلی دفاعی نامہ نگاروں کے مطابق یہ چاروں اس وقت ہلاک ہوئے جب ان کے ٹینک کو ایک مشتبہ ڈرون یا اینٹی ٹینک میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ فوج نے یہ بھی بتایا کہ ڈرون حملے میں ایک ریزرو افسر شدید زخمی ہوا ہے جبکہ چار دیگر فوجی معمولی زخمی ہوئے ۔اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت پر اسرائیل کے اندر شدید غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی وزیرِ داخلہ اتمار بن غفیر نے کہا: "لبنان کو جلنا ہوگا... ایک اسرائیلی ماں کے بہنے والے ہر آنسو کے بدلے 1,000 لبنانی ماؤں کو رونا ہو گا"۔اس کے جواب میں ایران نے ان وزرا کو ‘نسل کشی پر یقین رکھنے والا موت کا فرقہ’ قرار دیا ہے ۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیل پر "مستقل جنگ" چاہنے کا الزام لگایا۔ عباس عراقچی نے اپنے ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت میں طے کردہ وعدوں کی کسی بھی خلاف ورزی کی ذمہ داری ‘امریکا پر عائد ہو گی۔’عراقچی نے جمعہ کو اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار سے ٹیلیفون پر گفتگو میں کہا کہ طے پانے والے معاہدے کا مقصد ‘تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ’ ہے جس میں لبنان بھی شامل ہے اور اس معاہدے کی کسی بھی ‘خلاف ورزی کا ذمہ دار امریکا ہو گا۔’حزب اللہ نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیلی حملوں کے خلاف لبنان کی سرزمین اور عوام کا دفاع کرے گی۔گروپ نے اسرائیل پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں