معاہدے سے قبل فیلڈ مارشل رات بھر رابطے کرتے رہے
اتوار کی رات 11 بجے پاکستان میں حکام وزیر اعظم ہاؤس اور سچویشن روم میں جمع اسرائیل کے لبنان پر حملے کے بعد مذاکرات ایک بار پھر ٹوٹنے کے قریب تھے مئی کے آخر میں 45منٹ تک "وغیرہ"(etc)اور"بشمول"(including)پر بحث ٹرمپ کے ایران، پاکستان کو ’ابراہیمی معاہدے ‘ میں شامل کرنے کے مطالبے نے خلل ڈالا
اسلام آباد، دوحہ، کراچی، جنیوا (رائٹرز) پاکستانی ثالثوں نے ہفتوں تک رات گئے تک چلنے والی کالز اور مختلف مسودوں پر کام کر کے اس ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان عبوری معاہدہ طے کرانے میں مدد کی، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ اسے ایک مستقل معاہدے میں تبدیل کرنا زیادہ مشکل ثابت ہوگا۔دونوں فریقین کے پاس اب ایک حتمی تصفیے تک پہنچنے کے لیے 60 دن کا وقت ہے ، جس میں ایران کا جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ موضوعات شامل ہیں۔ مذاکرات سے واقف چار پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ صرف اس عبوری معاہدے تک پہنچنے کے لیے بھی انہیں ان گنت رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا جو اکثر چند دنوں کے اندر ہی بدل جاتی تھیں ۔ ان رکاوٹوں میں آبنائے ہرمز میں مجوزہ ٹول ٹیکس سے لے کر لبنان کی جنگ تک کے معاملات شامل تھے ۔
حساس نوعیت کے باعث نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے پانچ پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ معاہدے کا اعلان اس وقت سامنے آیا جب مذاکرات کئی بار، بشمول آخری رات، بالکل ناکامی کے قریب پہنچ چکے تھے ۔ ان میں سے دو ذرائع اور مذاکرات سے آگاہ ایک سفارت کار نے بتایا کہ اس فریم ورک معاہدے کو یقینی بنانے کے لیے قطر کو بھی مداخلت کرنا پڑی۔سفارت کار نے بتایا کہ اختلافات بعض اوقات ایک ایک لفظ پر ہوتے تھے ، جیسے کہ مئی کے آخر میں اس بات پر 45 منٹ تک بحث ہوئی کہ متن میں "وغیرہ" (etc.) کا لفظ استعمال کیا جائے یا "بشمول" (including) کا۔چار پاکستانی ذرائع کے مطابق، اپریل کے اوائل میں مذاکرات کے پہلے دور کے فوراً بعد، آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی سب سے شدید تنازعات میں سے ایک بن گئی، جبکہ مئی کے آخر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور پاکستان کو 'ابراہیمی معاہدے ' میں شامل ہونے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے مطالبے نے بھی مذاکرات میں خلل ڈالا۔
ایک ذریعے نے بتایا کہ جون کے اوائل میں اسلام آباد کی ٹیم کے ساتھ ہی ایک قطری وفد کا تہران پہنچنا ایک اہم موڑ تھا، کیونکہ دوحہ ایرانی قیادت کو مالی ضمانتیں فراہم کرنے کے قابل تھا۔ سفارت کار کے مطابق قطر نے براہِ راست شامل ہونے کی حامی صرف اسی صورت میں بھری اگر جنگ بندی برقرار رہے اور اس پر حملہ نہ کیا جائے ۔ اس کے بعد قطری ٹیم نے پاکستانی مسودوں کے خلا کو پُر کرنے کے لیے تہران کے پانچ خفیہ دورے کیے ، جو اکثر ترکی کے راستے کیے گئے ۔ذریعے نے بتایا کہ 19 مئی کو تہران سے ایک مثبت آغاز کی امید لے کر نکلنے کے بعد قطری ٹیم واشنگٹن پہنچی، سینئر امریکی حکام سے ملاقات کی اور وائٹ ہاؤس کے اندر سے ہی اپنے ایرانی ہم منصبوں کو کالز کر کے متن میں ترامیم کیں۔مذاکرات میں شامل ایک پاکستانی ذریعے نے بتایا کہ آخری رات نے یہ ظاہر کیا کہ یہ عمل اختتام تک کتنا پرخطر تھا۔ اتوار کی رات تقریباً 11 بجے پاکستان میں، جب حکام وزیر اعظم ہاؤس اور سچویشن روم میں جمع تھے ، اسرائیل کے لبنان پر حملے کے بعد مذاکرات ایک بار پھر ٹوٹنے کے قریب پہنچ گئے ۔ذریعے نے بتایا، "حالات بہت تیزی سے بدل رہے تھے ،" انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے رات بھر دونوں فریقین کے درمیان پیغامات پہنچائے ۔
چند گھنٹوں بعد معاہدہ طے پا گیا۔چار پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے عوامی بیانات نے بار بار کوششوں کو پیچیدہ بنایا، اور اسی طرح ایران کی طرف سے بھی فوری تجاویز کے جوابات تاخیر سے آئے ۔ انہوں نے کہا کہ تاخیر کی جزوی وجہ یہ تھی کہ امریکی حملوں کے بعد ایران کا فیصلہ سازی کا ڈھانچہ غیر معمولی طور پر منقسم ہو گیا تھا ۔مذاکرات سے واقف ایک بین الاقوامی ذریعے نے بتایا کہ ایرانی معلومات کی حفاظت کے معاملے میں انتہائی محتا ط تھے ۔ انہوں نے کہا، "پیغامات کئی ہاتھوں سے گزرتے ، اور پھر کئی دنوں بعد جواب واپس آتا ۔"مذاکرات میں شامل پاکستانی ذریعے نے بتایا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے ایک نمائندے کے اسلام آباد آنے کے بعد صورتحال میں بہتری آئی، جس سے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ان کی ٹیم کو "براہِ راست رابطوں " کا موقع ملا۔بین الاقوامی ذریعے نے بتایا کہ پاکستان دونوں ممالک کے مختلف مواصلاتی انداز سے مایوس بھی ہوا۔ ذریعے نے کہا، "امریکیوں کے ساتھ آپ کو کبھی معلوم نہیں ہوتا تھا کہ ان کا موقف کیا ہے ، اور یہ بدل سکتا تھا۔ اور ایرانیوں کے ساتھ اکثر آپ کو کئی کئی دنوں تک واضح جواب نہیں ملتا تھا۔"دونوں ممالک نے اب عبوری معاہدے پر دستخط تو کر دیے ہیں، لیکن سفارت کار کا کہنا ہے کہ یہ عمل اب بھی نازک ہے ، خاص طور پر اس لیے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے اور حزب اللہ کا ردِعمل اس معاہدے کو نقصان پہنچا سکتا ہے ۔بین الاقوامی ذریعے نے بات کا اختتام کرتے ہوئے کہا، "میرا نہیں خیال کہ میں کبھی کسی ایسے عمل کے اتنے قریب رہا ہوں جس میں اس (معاہدے ) سے کم اعتماد پایا جاتا ہو"۔