خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا :سپریم کورٹ
بدنام شہرت کے حامل جج کو ریٹائر نہیں بلکہ برطرف کیا جا سکتا ہے ، عوامی اعتماد عدلیہ کا سرمایہ ہے :تین رکنی بینچ ہائیکورٹ کی اپیل منظور، برطرف جج محمد افضل کی سزا بحال ، عدالت نے سروس ٹریبونل کا حکم کالعدم قرار دیدیا
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا، جج کے لیے معیار صرف بے گناہی نہیں بلکہ بے داغ کردار بھی ہے ، جج کی خراب شہرت پورے عدالتی نظام کو نقصان پہنچاتی ہے ،ایسا جج جس کی دیانت داری پر سوال ہو ، اسے منصب پر برقرار رکھنا عدلیہ کے بطور ادارہ مفادات کے منافی ہے ۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج وہاڑی محمد افضل زاہد کی برطرفی کا فیصلہ بحال اورلاہور ہائیکورٹ کی اپیل منظور کر لی اور 9 صفحات پر مشتمل جاری فیصلے میں مزید کہا ہے کہ سرکاری ملازم اور ایک جج کو برابر نہیں ٹھہرایا جاسکتا، سرکاری ملازم کی معمولی کوتاہی جبری ریٹائرمنٹ کا باعث بن سکتی ہے ، ایک جج کی دیانت داری او ر ساکھ اہم ہوتی ہے ، جج کی اہلیت کو اس کے فیصلوں کے ذریعے جبکہ اُس کی دیانت کو شہرت کے ترازو سے تولا جاتا ہے ، درست فیصلہ دینے والا جج عوامی ذہن میں داغ دار ہو تو اُس کے فیصلے کو شک کی نظر سے دیکھا جائے گا ۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بدنام یا کرپٹ جج کو عہدے سے ہٹانے پر عدالتی ادارہ صحت یاب ہونا شروع ہوجاتا ہے ، عوام کا اعتماد کھو دینے والا جج عدلیہ کی نمائندگی نہیں کر سکتا، جج کی ساکھ پر سوال اٹھ جائے تو عدلیہ کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے ، جج کے لیے معیار صرف بے گناہی نہیں بلکہ بے داغ کردار ہے ، بدنام شہرت کے حامل جج کو ریٹائر نہیں بلکہ برطرف کیا جا سکتا ہے۔
جج کی خراب شہرت پورے عدالتی نظام کو نقصان پہنچاتی ہے ، بدعنوانی ثابت نہ ہونے کے باوجود خراب شہرت سنگین معاملہ ہے ، خراب شہرت والے جج کی برطرفی قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے ، عدالتی منصب پر رہنے کیلئے ساکھ ناگزیر ہے ،جج کی ساکھ متاثر ہو جائے تو اس کی عدالتی حیثیت برقرار نہیں رہ سکتی، خراب شہرت رکھنے والے جج کو مراعات کے ساتھ ریٹائر نہیں کیا جا سکتا،عوامی اعتماد عدلیہ کا سب سے بڑا سرمایہ ہے ۔عدالت نے قرار دیا کہ جج کے لیے اچھی شہرت انصاف کی بنیادی شرط ہے ۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ الزام تھا ایڈیشنل اینڈ سیشن جج نے اپنے سامنے زیر سماعت مقدمات میں فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے لیے غیر قانونی مراعات حاصل کیں،الزامات کی سنگینی کے پیش نظر تادیبی کارروائی سے قبل متعلقہ اتھارٹی نے سیشن جج کے عمل کی نگرانی کا فیصلہ کیا، رپورٹ میں بتایا گیا جج کی عدلیہ میں اچھی شہرت نہیں ہے ۔سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا کہ منصفانہ تحقیقات اور ثبوتوں پر مشتمل نتائج ہوں تو ٹربیونل یا سپریم کورٹ بھی محکمانہ تحقیقات کے تنائج میں مداخلت نہیں کرتی، سروس ٹربیونل یا سپریم کورٹ وہاں مداخلت کرتی ہے جہاں حقائق پر مبنی نتائج کسی ثبوت کے بغیر ہوں یا بدنیتی پر مبنی ہوں، عدالتی افسر کی خراب شہرت کا الزام ناقص تحقیقات کا نتیجہ نہیں اس لیے مداخلت نہیں کرسکتے ۔سپریم کورٹ نے جج کی برطرفی کا 6 مئی 2013ء کا فیصلہ بحال کردیااور سروس ٹریبونل کا جبری ریٹائرمنٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔