ہائیکورٹ:ناکافی شواہد والے مقدمات ابتدائی مرحلے پر نمٹانے کاحکم

 ہائیکورٹ:ناکافی شواہد والے مقدمات ابتدائی مرحلے پر نمٹانے کاحکم

پراسیکیوشن کا ادارہ محض رسمی فریق نہیں بلکہ ایک فلٹرنگ اتھارٹی ہے :جسٹس امجد رفیق اس اصول کو مدنظر رکھا جائے :تحریری فیصلہ ، ماتحت عدالت کے سابقہ احکامات کالعدم قرار

لاہور(کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ نے ناکافی شواہد پر مبنی مقدمات کو ٹرائل کیلئے بھیجنے کے بجائے ابتدائی مرحلے پر ہی نمٹانے کے اصول کو تسلیم کرتے ہوئے اہم عدالتی نظیر قائم کر دی،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد امجد رفیق نے مجسٹریٹ اور ایڈیشنل سیشن جج کے سابقہ احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا کہ درخواست گزار کو قانون کے مطابق نئی درخواست دائر کرنے کا حق حاصل ہے ، 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے کو عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے ۔عدالت  نے قرار دیا کہ کمزور شواہد والے مقدمات نہ صرف عدالتی نظام پر غیر ضروری بوجھ ڈالتے ہیں بلکہ ریاستی وسائل کے ضیاع کا سبب بھی بنتے ہیں، اگر کسی مقدمے میں ریکارڈ پر موجود شواہد ناکافی ہوں تو اسے ٹرائل کیلئے بھیجنے کے بجائے ڈسچارج یا بری کرنے کا اختیار عدالت کو حاصل ہے ، پراسیکیوشن کا ادارہ محض ایک رسمی فریق نہیں بلکہ ایک فلٹرنگ اتھارٹی ہے تاکہ کمزور اور بے بنیاد مقدمات ابتدائی مرحلے پر ہی روک دیئے جائیں۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ پولیس رپورٹ کی مو ثر جانچ اور شواہد کی چھان بین پراسیکیوشن کی بنیادی ذمہ داری ہے ، بے بنیاد مقدمات عدالتوں کا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں، پراسیکیوشن کو اپنی سکریننگ کے عمل کو مزید مو ثر بنانا ہوگا تاکہ صرف مضبوط مقدمات ہی ٹرائل تک پہنچ سکیں، اگر کسی کیس میں بعد ازاں مزید شواہد سامنے آئیں تو اسے دوبارہ کھولنا قانونی طور پر ممکن ہے تاہم اس کا انحصار نئے مواد اور قانونی تقاضوں پر ہوگا،اس کیس کے دوران ایک شہری کو کریکٹر سرٹیفکیٹ کے معاملے میں بھی ریلیف فراہم کیا گیاجسے عدالت نے اہم قانونی پہلو قرار دیا ۔عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فوجداری معاملات میں اس اصول کو مدنظر رکھا جائے کہ کمزور شواہد والے مقدمات کو ٹرائل تک نہ پہنچایا جائے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں