وراثتی جائیداد کی مالیت اپیل کے فورم کا تعین نہیں کرتی :ہائیکورٹ
فورم سے متعلق قانونی ابہام کو دور کرنا ضروری ہے :جسٹس راحیل کامران شیخ 7 صفحات کاحکمنامہ جاری، اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ کالعدم،نظرثانی درخواست منظور
لاہور(کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ نے وراثتی سرٹیفکیٹ سے متعلق اہم مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ وراثتی جائیداد کی مالیت اپیل کے فورم کے تعین میں مو ثر نہیں ہوتی، وراثتی مقدمات میں اپیل کے فورم سے متعلق پائے جانے والے قانونی ابہام کو دور کرنا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے معاملات میں درست قانونی رہنمائی فراہم کی جا سکے ۔ جسٹس احمد ندیم نے 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جانشینی (سکسیشن) سرٹیفکیٹ سے متعلق مقدمات میں اپیل کا فورم سکسیشن ایکٹ کے تحت ہی طے کیا جائے گا ، جانشینی سرٹیفکیٹ کے کیسز پر عام دیوانی مقدمات کی مالی حد لاگو نہیں ہوتی کیونکہ سکسیشن ایکٹ ایک خصوصی قانون ہے جو دیگر عام قوانین پر فوقیت رکھتا ہے ۔عدالت نے قرار دیا کہ ڈسٹرکٹ جج کی جانب سے محض مالی دائرہ اختیار کی بنیاد پر اپیل واپس کرنا قانونی طور پر درست نہیں تھا اور یہ ایک واضح قانونی غلطی ہے ۔ہائیکورٹ نے اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے نظرثانی کی درخواست منظور کر لی اور جانشینی سرٹیفکیٹ سے متعلق اپیل کو دوبارہ بحال کرنے کا حکم دے دیا اورہدایت کی کہ اپیل کو اصل نمبر پر بحال کر کے اس کا فیصلہ میرٹ پر کیا جائے ۔