ایران امریکا معاہدہ ، آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں میں تیزی
ڈیل کے بعد بھی صورتحال واضح نہیں کہ آئندہ مذاکرات کب کہاں اور کیسے ہونگے ؟
اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی) ایران ،امریکہ کے درمیان اسلام آباد ایم او یو پر دستخط کے بعد بھی ابھی تک صورتحال واضح نہیں کہ آئندہ مذاکرات کب کہاں اور کیسے ہوں گے ؟ تاہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی سرگرمیوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ، جہاز رانی ، مارکیٹ انٹیلی جنس کمپنی کیپلر کے مطابق 18 جون کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تصدیق شدہ بحری جہازوں کی تعداد 25 تک پہنچ گئی ، یہ روزانہ بحری سرگرمیوں میں نمایاں اضافے کی عکاسی ہے ، بحری گزرگاہ میں جہازوں کی آمدورفت دونوں اطراف میں تقریباً برابر رہی جو تاجروں اور جہاز رانی کمپنیوں کے مالکان کے اعتماد کو ظاہر کرتی ہے ، گزرنے والے جہازوں میں پانچ پابندیوں کا شکار جہاز بھی شامل تھے ، یہ اعداد و شمار امریکہ اور ایران کے درمیان 60 روزہ مفاہمتی یادداشت کے نفاذ سے متعلق جاری مشاورت کے دوران سامنے آئے ہیں، جس کا مقصد جنگ بندی برقرار رکھنا، آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا اور وسیع تر مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے ،اگرچہ روزانہ کی بنیاد پر سرگرمیوں میں یہ اضافہ آپریشنل حالات میں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔
تاہم نفاذ سے متعلق غیر حل شدہ معاملات اور بعض جہازوں کی جانب سے اب بھی اپنی نقل و حرکت مخفی رکھنے کے باعث شپنگ آپریٹرز محتاط رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں ، کیپلر کے مطابق ادنوک (ADNOC) کا ایک ایل این جی بردار جہاز بھی کامیابی سے آبنائے ہرمز عبور کر کے بھارت کی جانب روانہ ہو گیا جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ خلیجی ممالک سے ایل این جی کی برآمدات خطے کی پیچیدہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کے باوجود معمول کے مطابق جاری ہیں۔ الحمرا نامی جہاز جو تقریباً 133,000 مکعب میٹر ایل این جی لے کر روانہ ہوا، داس آئی لینڈ سے لوڈنگ کے بعد سری لنکا کے ساحل کے قریب سے گزر کر بھارت کے اینور درآمدی ٹرمینل کی جانب گامزن ہے ، یہ سفر آبنائے ہرمز سے حالیہ دنوں میں متعدد ٹینکروں کی نقل و حرکت کے بعد سامنے آیا ہے ، میرین ٹریفک نامی شپ ٹریکنگ کمپنی کے مطابق سعودی خام تیل بردار جہاز بھی دوبارہ آبنائے ہرمز سے گزرے تھے۔
میرین ٹریفک کے مطابق سعودی پرچم بردار تین بڑے خام تیل بردار جہاز دو ماہ سے زائد عرصے تک اپنی نقل و حرکت مخفی رکھنے کے بعد دوبارہ AIS پر ظاہر ہو گئے تھے ،میرین ٹریفک کے اعداد و شمار کے مطابق جہام شادن اور اوتاد نے 18 جون کو دوبارہ AIS سگنلز نشر کرنا شروع کئے ، شادن نے جاپان کے کیئرے کو اپنی منزل ظاہر کیا ہے ، جبکہ اوتاد جنوبی کوریا کے اولسان کی جانب گامزن ہے جہام کی منزل تاحال واضح نہیں ہے ،یہ تینوں جہاز مجموعی طور پر تقریباً 60 لاکھ بیرل خام تیل لے جا رہے ہیں ، دوسری جانب اسلام آباد ایم او یو پر دستخط ہونے کے بعد بھی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لئے اجازت درکار ہوگی۔ ایران کی پرشین گلف اتھارٹی نے ایران۔امریکہ ایم او یو کے بعد تفصیلات جاری کر دی ہیں۔اتھارٹی کے مطابق اسلام آباد ایم او یو پر دستخط اور متعلقہ حکام کی ہدایات کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے مالکان اور آپریٹرز کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ان بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی جو مقررہ مدت میں ضروری تقاضے پورے کریں گے اور اپنی عبوری درخواستیں جمع کرائیں گے ۔