کالعدم کمیٹی کے سرغنہ خواجہ مہران کے خلاف غداری کا مقدمہ درج
مسلح افواج میں کشمیری اہلکاروں کو اپنے ہی ادارے کے خلاف بغاوت پر اکسایا تقریر کا وقت کسی گہرے اور بدنیتی پر مبنی ایجنڈے کی نشاندہی ہے ، سکیورٹی تجزیہ کار
مظفرآباد (دنیا رپورٹ ) آزاد جموں و کشمیر حکومت نے ملک کے سکیورٹی اداروں میں بغاوت پر اکسانے اور انتہائی اشتعال انگیز تقریر کرنے پر کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سرغنہ خواجہ مہران ارشد کے خلاف اے پی سی کی دفعہ 124-A کے تحت غداری کا مقدمہ درج کر لیا ۔مظفرآباد کے سول سیکرٹریٹ تھانے میں یہ ایف آئی آرانٹیلی جنس اور مقامی مانیٹرنگ یونٹس کی جانب سے مہران ارشد کی 14 جون کو دریک، راولاکوٹ میں کی گئی تقریر کے مندرجات کی تصدیق کے بعد باضابطہ طور پر درج کی گئی ،سرکاری ذرائع کے مطابق ڈڈیال سے تعلق رکھنے والے مہران ارشد نے پاکستان کی مسلح افواج میں خدمات سرانجام دینے والے کشمیری اہلکاروں کو اپنے ہی ادارے کے خلاف بغاوت کرنے پر کھلم کھلا اکسایا۔ مہران ارشد نے مبینہ طور پر کہا میں ان لوگوں سے مخاطب ہوں جو پاکستان آرمی میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور دفاعِ پاکستان کے لیے اپنا خون بہا رہے ہیں۔
میں ان سے کہہ رہا ہوں کہ اب مزید انتظار نہ کریں؛ بغاوت کریں اور اپنے ملک (آزاد جموں و کشمیر) واپس لوٹ آئیں ایک عہدیدار نے بتایا، ریاست نے اس وقت انتہائی رواداری کا مظاہرہ کیا جب اس گروپ نے مقامی معاشی مطالبات اٹھائے تھے ، لیکن فوج کے اندر بغاوت پر اکسانا آخری آئینی ریڈ لائن کو عبور کرنے کے مترادف ہے ۔ یہ اب کوئی عام اختلافِ رائے نہیں، بلکہ ریاست کے سکیورٹی ڈھانچے کے خلاف کھلی بغاوت ہے ۔قانونی ماہرین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اے پی سی کی دفعہ 124-A خاص طور پر غداری اور ریاست مخالف اقدامات سے متعلق ہے ، جس کا مقصد ریاست اور اس کے اہم اداروں کے خلاف نفرت، حقارت یا بغاوت کو ہوا دینا ہے ،سکیورٹی تجزیہ کاروں کا موقف ہے کہ مہران ارشد کے ان ریمارکس کا وقت اور نوعیت کسی گہرے اور بدنیتی پر مبنی ایجنڈے کی نشاندہی کرتی ہے ، جو بیرونی دشمنوں کے ایما پر چلایا جا رہا ہے ۔