منگلا ڈیم متاثرین کیس، بورڈ آف ریونیو کا حکم کالعدم قرار
4 ماہ میں دوبارہ فیصلے کا حکم، متاثرین کو تب تک بیدخل نہ کیا جائے :ہائیکورٹ
لاہور (کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ نے منگلا ڈیم متاثرین کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے بورڈ آف ریونیو کا حکم کالعدم قرار دے دیا اور معاملے پر چار ماہ کے اندر دوبارہ فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ جب تک اس معاملے کا حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا، درخواست گزاروں کو ان کی زیر ملکیت زمین سے بے دخل نہیں کیا جائے گا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مزمل اختر شبیر نے 4 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزاروں کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار منگلا ڈیم سے متاثرہ افراد ہیں اور واپڈا نے سرکاری زمین کی خریداری کا سرٹیفکیٹ جاری کیا تھا، جس کے تحت زمین کی مکمل قیمت ادا کر دی گئی تھی۔ اس کیس میں دو اہم نکات کی نشاندہی کی گئی تھی جن پر بورڈ آف ریونیو نے نظرثانی درخواست مسترد کرتے وقت غور نہیں کیا۔ بورڈ آف ریونیو کو معاملہ واپس بھیجنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ 59 متاثرین کو پہلے ہی ملکیتی حقوق دیے جا چکے تھے ، جبکہ دوسرا اہم نکتہ یہ تھا کہ گورنر مغربی پاکستان نے ممنوعہ زون میں زمین کی الاٹمنٹ پر عائد پابندی میں نرمی کر دی تھی۔عدالت نے قرار دیا کہ بورڈ آف ریونیو نے 2017 کے اپنے فیصلے میں ان دونوں نکات پر کوئی غور یا بحث نہیں کی۔