گھروں میں مجالس ،اجازت نامہ ضروری نہیں:ہائیکورٹ
محرم جلوسوں کی اجازت ضلعی پولیس دے سکتی ، سڑکوں پر جلوس کیلئے اجازت لازم نجی مجالس کیلئے صرف انتظامیہ کو اطلاع کافی،ریاست سہولت کاری کرے :فیصلہ جاری
لاہور (کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ نے محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس سے متعلق اہم قانونی نکتہ طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ گھروں کے اندر منعقد ہونے والی مجالس کے لیے کسی پیشگی اجازت یا لائسنس کی ضرورت نہیں ہوگی۔ یہ وضاحت جسٹس محمد امجد رفیق نے شہری سید واصی حیدر کی درخواست منظور کرتے ہوئے کی اور اس فیصلے کو عدالتی نظیر قرار دے دیا۔جسٹس محمد امجد رفیق نے 10 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ نجی گھروں میں منعقد ہونے والی مجالس کے منتظمین صرف سکیورٹی کے پیش نظر متعلقہ انتظامیہ کو اطلاع دینے کے پابند ہونگے ، عوامی سڑکوں پر جلوس نکالنے کے لیے ضلعی پولیس اور ڈپٹی کمشنر سے باقاعدہ اجازت لینا لازمی ہوگا۔ جلوسوں کے لائسنس جاری کرنے کا اختیار صرف ضلعی پولیس کے پاس ہے ، جبکہ ہوم ڈیپارٹمنٹ کو اس معاملے میں مداخلت کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ عدالت نے مزید ہدایت کی کہ محرم الحرام سے ایک ماہ قبل جلوسوں اور مجالس کی رجسٹریشن کا عمل شروع کیا جائے تاکہ سکیورٹی اور انتظامی معاملات بہتر انداز میں انجام دیے جا سکیں۔فیصلے کے مطابق انتظامیہ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو بروقت آگاہی فراہم کرے گی، جبکہ ریاست پر لازم ہے کہ محرم الحرام کے مذہبی اجتماعات کے انعقاد میں سہولت کاری کو یقینی بنائے ۔