عالمی منڈی میں تیل قیمتیں مستحکم ہونے پر ہی اضافی ریلیف عوام کو منتقل کیا جائیگا : وزیر پٹرولیم
رواں ہفتے پٹرول اور ڈیزل کی بین الاقوامی قیمتوں کے اشاریوں کا جائزہ لیا جائے گا، حکومت نہ تو مخصوص شعبے کو ترجیح دے رہی اور نہ ہی عوام پر کوئی غیر ضروری بوجھ ڈال رہی ہے گزشتہ ہفتے کی ریڈنگز کے مطابق عوام کو ریلیف دیا جا چکا ،یہ چیزغلط ہے وزیراعظم نے کسی سے کوئی ملاقات کی اور دباؤ میں آئے ، عالمی منڈی میں تیل مہنگا ،اس لئے مقامی قیمت زیادہ :علی پرویز
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،دنیا نیوز)وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہ کرنے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل قیمتیں مستحکم ہونے پر ہی اضافی ریلیف عوام کو منتقل کیا جائیگا ، رواں ہفتے پٹرول اور ڈیزل کی بین الاقوامی قیمتوں کے اشاریوں کا جائزہ لیا جائے گا، حکومت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے صارفین تک ہرممکن فائدہ منتقل کرنے کیلئے پُرعزم ہے ۔ وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بیان اور ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے قیمتوں کے تعین کی اصل وجوہات اور حکومتی مؤقف بیان کیا۔ برینٹ کروڈ گزشتہ ایک ہفتے میں 9.69 ڈالر، ڈبلیو ٹی آئی 8.53 ڈالر اور عرب لائٹ 4.14 ڈالر فی بیرل سستا ہوا ہے ۔ وزیر پٹرولیم نے وضاحت کی کہ عوام اور ریفائنریز خام تیل استعمال کرتی ہیں، جبکہ صارفین تک ریفائنڈ پٹرول اور ڈیزل پہنچتا ہے ، جس کی قیمتوں کا موازنہ ہفتہ وار بنیادوں پر کیا جاتا ہے ۔
رواں ماہ 22 جون کو عالمی منڈی میں پٹرول 98.35 ڈالر فی بیرل تھا، جو 26 جون کو کم ہو کر 91.68 ڈالر پر آگیا جبکہ 22 جون کو ڈیزل 109 ڈالر فی بیرل تھا، جو 26 جون کو کم ہو کر 104 ڈالر 79 سینٹ پر آگیا۔علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ حکومت نہ تو کسی مخصوص شعبے کو ترجیح دے رہی ہے اور نہ ہی عوام پر کوئی غیر ضروری بوجھ ڈال رہی ہے ۔انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ ہفتے کی تمام ریڈنگز سوشل میڈیا پر ریلیز کر دی گئی ہیں اور اسی ریڈنگ کے مطابق پہلے ہی عوام کو ریلیف دیا جا چکا ہے ، عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے مستحکم ہونے کے بعد مزید ریلیف بھی فوراً عوام کو منتقل کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے ماضی کے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم کے ویژن کے تحت اب تک ڈیزل کی قیمت میں مجموعی طور پر 200 روپے اور پٹرول کی قیمت میں 155 روپے سے زائد کی کمی کی جا چکی ہے ۔
حکومت نے ریفائنریز کو جو ڈیلز دلوائی تھیں، اس سے کمائے گئے منافع اور اربوں روپے کی ٹارگٹڈ سبسڈی کے ذریعے عوام کی تکالیف کو کم کیا اور آج بھی پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کو کم رکھا گیا ہے ۔ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر پٹرولیم نے کہا وزیراعظم نے مجھے ہمیشہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کا کہا،جنگی صورتحال کے دوران میں اپنے کیے گئے فیصلوں پر قائم ہوں، جنگ سے پہلی لیوی 84 روپے تھی،آج 66 روپے ہے ۔ ایران امریکا جنگ بندی سے عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہوئی ہیں،اپریل میں ڈیزل کی قیمت 520 روپے اور پٹرول کی قیمت 460 روپے تھی،ڈیزل میں 200 روپے اور پٹرول میں 150 سے 155 روپے ریلیف دے چکے ، خام تیل کی قیمتوں میں بھی کمی آئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم 70 فیصد پٹرول درآمد کرتے ہیں،خام تیل سے ہم مقامی سطح پر 25 سے 30 فیصد پٹرول بنا سکتے ہیں۔
آج حکومت نے لیوی 66 روپے فی لٹر لگائی ہوئی ہے، ہم نے جنگی صورتحال میں ایران،امریکا سے مدد لیکر سستے تیل کے جہاز منگوائے ،ہم نے پہلے بھی خام تیل سے قیمتوں کو نہیں جوڑا تھا،نہ آج جوڑ رہاہوں۔ علی پرویزملک کا کہناتھا کہ آج پٹرول کی عالمی منڈی میں قیمت20ڈالر فی بیرل زیادہ ہے ۔ کسی جگہ پر کوئی وعدہ خلافی نہیں ہوئی،نہ اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، عالمی منڈی میں قیمت کم ہو گی تو عوام کو ریلیف فراہم کر دیں گے ،یہ چیزغلط ہے وزیراعظم نے کسی سے کوئی ملاقات کی ہے اور دباؤ میں آئے ، انہوں نے مجھ سے ملاقات کی،کسی کے دباؤ میں نہیں آتا، میں کسی کے کہنے پر کوئی فیصلہ نہیں کرتا، جنگ سے پہلے پٹرول کے پلیٹس کا ریٹ 76 ڈالرفی بیرل تھا، آج پٹرول کے پلیٹس کا ریٹ 92 ڈالر پر ہے ،اس لئے پٹرول کی قیمت کم نہیں ہوئی، عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہے ،اس لئے مقامی قیمت زیادہ ہے۔