امریکا،ایران کشیدگی میں اضافہ،فریقین کے حملے،تہران کی مذاکرات معطل کرنیکی دھمکی:جنگ پر مجبور کیا تو ایرانی وجود مٹا دینگے:ٹرمپ
آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت سے کشیدگی مزید بڑھ سکتی :ایران ، امریکی اڈوں کو جہنم بنا دینگے :پاسداران ،قطری شہری بحری جہاز پر شیل کے ٹکڑے لگنے سے جاں بحق ایرانی سپریم لیڈر کا امریکا اسرائیل کیخلاف جنگی جرائم پر قانونی کارروائی کا حکم،مشرق و سطی ٰ جنگ دنیا کیلئے نقصان دہ :عراق ،فریقین امن معاہدے کی پاسداری کریں :پاکستان
دبئی،واشنگٹن،تہران (نیوز ایجنسیاں )ایران نے اتوار کی صبح کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ۔ یہ حملے امریکی صدر ٹرمپ کی اس دھمکی کے فوراً بعد کیے گئے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران نے جنگ کے خاتمے کیلئے طے پانے والے عبوری معاہدے کی پاسداری نہ کی تو ایرانی قیادت کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھاایسا وقت آ سکتا ہے جب ہم مزید تحمل کا مظاہرہ نہ کر سکیں اور ہمیں وہ فوجی کارروائی مکمل کرنا پڑے جو ہم نے کامیابی سے شروع کی تھی۔ جنگ پر مجبور کیا توایرانی وجود مٹا دینگے ۔ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے بیان میں کہا کہ بحریہ اور فضائیہ نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ پاسداران کے مطابق امریکی حملوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے اور اب تمام سفارتی عمل مکمل طور پر رک جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکی اڈوں کو آنے والے دنوں میں جہنم کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایک امریکی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران نے امریکی تنصیبات کو ضرور نشانہ بنایا، تاہم اب تک کسی امریکی کی ہلاکت یا بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی،پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ امریکا کی اندھی فائرنگ آبنائے ہرمز پر ہمارا کنٹرول ختم نہیں کر سکتی،پاسداران انقلاب نے دھمکی دی کہ اگر امریکا نے اپنے حملے بند نہ کیے تو جنگ بندی مذاکرات مکمل طور پر معطل کر دئیے جائیں گے ،امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان رواں ہفتے شیڈول مذاکرات معطل ہوگئے ۔رپورٹ کے مطابق طے شدہ مذاکرات آبنائے ہرمز پر لڑائی کے باعث معطل ہوئے ، مفاہمتی یادداشت کے بعد تکنیکی ٹیموں کے مذاکرات ہونے تھے ۔ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی عدلیہ کو امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم پر قانونی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے ۔مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ گزشتہ سال سے ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ملک اور عوام کو پہنچنے والے نقصانات اور متاثرہ حقوق کی بحالی کے لیے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مو ثر قانونی اقدامات کیے جائیں۔ بعض امریکی اور اسرائیلی رہنماؤں کے بیانات مجرمانہ ذمہ داری کے اعتراف کے مترادف ہیں، جو ایرانی قوم کے حقوق کی بحالی کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجائی نے کہا ہے کہ ایرانی عدالتوں نے ایرانی عوام کے خلاف جرائم کے الزامات پر متعدد امریکی حکام کے خلاف فیصلے جاری کر دیے ہیں۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ جیسے ہی امریکی حکام کے اثاثوں تک رسائی ممکن ہوئی ان فیصلوں پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکا کے ساتھ طے شدہ راستوں کو نظرانداز کرنے کی کوئی بھی کوشش مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھاسکتی ہے ۔ انہوں نے بغداد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف صورتحال کو پیچیدہ بنائیں گے بلکہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کی بحالی میں بھی تاخیر کا باعث بنیں گے ۔انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ طے شدہ مفاہمتی یادداشت کی پاسداری کریں ۔ عراقچی کے مطابق حالیہ دنوں میں ہونے والی کشیدگی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ خطے میں استحکام کے لیے ذمہ درانہ رویہ ضروری ہے ۔خطے میں حالیہ حملوں اور جوابی کارروائیوں کے بعد کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے ، جبکہ متعدد ممالک نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ عباس عراقچی نے خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر ایک نیا علاقائی سکیورٹی فریم ورک تشکیل دینے پر زور دیا ، انہوں نے کہا کہ خطے کے تمام ممالک کو شامل کر کے ایسا نظام بنایا جانا چاہیے جس میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت شامل نہ ہو۔ عراقچی نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے استحکام کے لیے علاقائی تعاون ناگزیر ہے اور تنازعات کے حل کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا ضروری ہے ۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت اسرائیل کا لبنان سے انخلا اور اس کی فوجی کارروائیوں کا خاتمہ لازمی ہے ،عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے اطراف اب بھی جھڑپیں ہو رہی ہیں، آبنائے ہر مز بند ہونے سے عراقی تیل کی سپلائی رک گئی تھی، یہ جنگ پوری دنیا کیلئے نقصان دہ ہے ، جنگ کو اب ختم ہونا چاہئے ۔
فواد حسین نے کہا کہ خطے کو محفوظ رکھنے کیلئے تمام ممالک کو کام کرنا ہوگا۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو بغداد میں عراقی وزیراعظم علی الزیدی سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور خطے میں امن و استحکام کے لیے علاقائی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مطالبہ کیا ہے کہ لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی افواج کے غیر مشروط انخلا کے لیے فوری طور پر ایک واضح ٹائم ٹیبل یا وقت طے کیا جائے ۔ایران لبنان کی قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور تمام لبنانی شہریوں کے وقار و سلامتی کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتا ہے ۔کویت کی وزارتِ خارجہ نے ایران کی جانب سے اپنی سرزمین پر کیے گئے ایک نئے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ وزارت کے مطابق حملہ اتوار کو علی الصبح کیا گیا ۔ فضائی دفاعی فورسز نے اتوار کو میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں کو روکنے کے لیے کارروائی شروع کر دی۔ فوج کے مطابق شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر حفاظتی ہدایات پر عمل کریں اور محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو جائیں،کویت نے نقصانات کی فوری تفصیل فراہم نہیں کی۔ بحرین کے فضائی دفاعی نظام نے اتوار کے روز ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے روک کر تباہ کر دیا۔بحرینی فوج کے مطابق یہ کارروائی امریکی حملوں کے بعد ایران کی جانب سے کیے گئے جوابی حملوں کے دوران کی گئی، ملک میں سکیورٹی کے پیش نظر ہائی الرٹ نافذ ہے ۔ فوجی بیان میں کہا گیا کہ کئی پروجیکٹائل کو راستے میں ہی ناکارہ بنا دیا گیا۔بحرین کی وزارتِ داخلہ نے بتایا کہ ایرانی حملوں سے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب ایک آٹھ منزلہ رہائشی عمارت کو نقصان پہنچا۔ ایک منزل مکمل طور پر تباہ ہو گئی، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ادھر بحرین نے ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ قطری شہری ایک بحری جہاز پر شیل کے ٹکڑے لگنے سے زخمی ہونے کے بعد جاں بحق ہو گیا، جبکہ ایک اور شخص زخمی ہوا۔ وزارت داخلہ کے مطابق یہ واقعہ علاقے میں جاری فوجی کارروائیوں کے باعث پیش آیا، تاہم مقام یا ذمہ دار فریق کی نشاندہی نہیں کی گئی۔نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی کایا کالاس سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔اتوار کو وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا۔ کایا کالاس نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی تکمیل میں پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کو سراہا تاہم حالیہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقوں کے درمیان رابطے اور بات چیت کے ذرائع ہر صورت کھلے رہنے چاہئیں۔نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ نے یورپی یونین کی اعلٰی نمائندہ کو مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے ایک جامع فریم ورک کی تشکیل کے حوالے سے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام فریق جنگ بندی کے معاہدے کی مکمل پاسداری کریں۔تاہم انہوں نے حالیہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ اسحاق ڈار کا سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون رابطہ ہوا ۔ اسحاق ڈار نے بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی سے بھی ٹیلیفون پر گفتگو کی۔وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے پر مبارکباد دی اور باہمی مفاہمت کے حصول میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام میں معاون ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ جلد پاکستان کا دورہ کریں گے تاکہ جنگ بندی کے حصول کے لیے وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی غیر معمولی کاوشوں پر ذاتی طور پر ان کا شکریہ ادا کر سکیں۔مصر اور قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کی حمایت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر مکمل عمل درآمد کیا جائے تاکہ خطے میں کشیدگی کم ہو اور امن و استحکام کو فروغ مل سکے ۔مصری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ اتفاقِ رائے مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اور قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کے دوران سامنے آیا۔لبنان کے سرکاری میڈیا کے مطابق اتوار کے روز اسرائیل نے ایک بار پھر جنوبی لبنان میں فضائی حملے کیے ،لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق ایک روز قبل اسرائیلی حملے میں ایک شخص شہید ہوا تھا، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی علاقے میں حزب اللہ کے ارکان کو نشانہ بنایا۔اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اتوار کو جنوبی لبنان میں جھڑپ کے دوران ایک اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگیا۔ فوج کے مطابق 21 سالہ کیپٹن ڈیوڈ ہازوٹ، جو ایک پلاٹون کمانڈر تھا ، لڑائی کے دوران مارا گیا ۔