کشمیر کی صورتحال پر پورے ملک کو تشویش،حکومت آگے بڑھے :فضل الرحمٰن حافظ نعیم
یہ حساس معاملہ، خون خرابہ سے بچیں، کمیٹی کے مطالبات آئین کے اندر رہ کر حل کیے جائیں، ہمیں حکومتی جواب کا انتظار قوت کی بنیاد پر مسائل کے حل کی طرف نہیں جانا چاہیے :ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک، امیر جماعت سے علامہ ناصر بھی ملے
اسلام آباد، لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک، اپنے رپورٹر سے )امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی اور آزاد کشمیر کی صورتحال پر بات چیت کی، دونوں رہنماؤں نے آزاد کشمیر کا معاملہ طاقت کے بجائے مذاکرات سے حل کرنے پر زور دیا۔ حافظ نعیم ملاقات کیلئے فضل الرحمن کی رہائش گاہ پہنچے ، وفد میں نائب امیر میاں اسلم، امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر مشتاق خان شامل تھے ۔ ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ طور پر میڈیا سے بات چیت کی۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے اس نے پورے ملک کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے ، کشمیر ایک حساس نوعیت کا معاملہ ہے ، ہم نے 80 سال کشمیر کیلئے قربانیاں دیں اور اقوام متحدہ میں بھی معاملہ اٹھایا، کشمیر میں خون خرابہ ہوچکا ہے اور دھرنا بھی موجود ہے ، اس صورتحال میں مذاکرات کے علاوہ اگر کوئی بات ہوگی تو وہ مسائل بڑھائے گی۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر آئین کی حدود میں رہتے ہوئے معاملات حل کیے جائیں، جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اپنے لانگ مارچ کو روکا تو امید پیدا ہوئی، ہم نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کہا آئین میں رہتے ہوئے بات ہوسکتی ہے ، ہمیں حکومت کی جانب سے جواب کا انتظار ہے ۔ انہوں نے کہا آزاد کشمیر تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ ہے ، حکومت سے کہتے ہیں آگے آئے ، ہر اس عمل سے بچیں جس سے خون خرابہ ہو، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو بھی کہتے ہیں ایسے اقدامات سے گریز کریں جس سے خون خرابے کا خدشہ ہو، کسی فرد پر کسی کو گلہ ہے تو وہ ایک شخص کا گناہ ہے ، آج بھارت بہت خوش ہے اور یہ ہماری بدنصیبی ہے جو ہوگیا سو ہوگیا، آگے مثبت طرف جانا چاہیے ، تمام سٹیک ہولڈرز سے کہتے ہیں غنیمت سمجھیں ایسے لوگ ابھی بھی موجود ہیں جو امن کو موقع دے سکتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا حافظ نعیم الرحمان کی گفتگو ہماری سب کی آواز ہے ، ہمیں جذبات کی بجائے عقل ودانش سے آگے بڑھنا چاہیے ۔ ایک وفد خط لے کر آیا تھا اور ثالثی کی پیشکش کی تھی میں نے کہا لانگ مارچ کو موخر کیا جائے جس پر انہوں نے لانگ مارچ موخر کیا اور مزید کوئی قدم نہیں اٹھایا اب ہم دونوں طرف سے جواب کے انتظار میں ہیں۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کی ساری قیادت اس صورتحال پر پریشان ہے ، حکومت کہتی ہے ان کے مطالبات مانے بھی گئے اور معاہدے بھی کیے پھر حکومت نے ان کو کالعدم بھی قرار دیا ہمیں صرف قوت کی بنیاد پر مسائل کے حل کی طرف نہیں جانا چاہیے ۔ دریں اثنا وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی بھی جے یو آئی سربراہ سے ملنے ان کی رہائش گاہ پہنچے ، انہوں نے سیاسی صورتحال اور بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال پر گفتگو کی۔ علاوہ ازیں گیارہ جولائی کو پھول نگر قصور میں تحفظ مدارس دینیہ و عوامی حقوق کانفرنس کی تیاریوں کے حوالے سے اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے کہا بدامنی کے ماحول میں عوامی اجتماعات سے امن کو فروغ ملتا ہے ، یہ دین اسلام اور وطن کی بہت بڑی خدمت ہے ، اس وقت یہ خدمت جمعیت علماء اسلام کے علاوہ کوئی جماعت انجام نہیں دے رہی، حکومتی جماعتیں عوام میں جانے کا حوصلہ نہیں رکھتیں۔ علاوہ ازیں حافظ نعیم الرحمان کی راجہ ناصر عباس سے ملاقات ہوئی جس میں آزاد کشمیر کا مسئلہ بات چیت کے ذریعے پُرامن حل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کوشش ہے آزاد کشمیر کے مسائل کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے ، تمام جماعتوں کا اتفاق ہے کہ امن کو موقع دیا جائے ۔ پاکستان کے فریم ورک میں ہی رہ کر ہی بات چیت ہوگی۔ علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے ، زخموں پر مرہم رکھا جائے ، کشمیری ہمارے بھائی ہیں، لا تعلق نہیں رہ سکتے ۔