پنجاب اسمبلی :ضمنی بجٹ پر حکومت،اپوزیشن آمنے سامنے ،لفظی گولہ باری
اپوزیشن کے کرپشن الزامات مسترد ، اویس ورک کے والد بارے ریمارکس پر کشیدگی، دونوں ارکان نے معذرت کر لی نوآبادیاتی نظام قانون ممکن نہیں ، سپیکر،پنجاب کنٹرول آف ہیبی چوئل آفینڈرز بل سے اظہارلاعلمی ،سخت ایکشن کااعلان
لاہور (سیاسی نمائندہ،این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک ) پنجاب اسمبلی میں ضمنی بجٹ 2025-26 پر بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید لفظی جنگ دیکھنے میں آئی۔ اپوزیشن نے الزام عائد کیا کہ 566 ارب روپے کا ضمنی بجٹ عوام سے فراڈ اور کرپشن کا ذریعہ ہے ، جبکہ حکومتی ارکان نے مو قف اختیار کیا کہ ایک ایک پیسہ پنجاب کی ترقی اور عوامی فلاح پر خرچ ہو رہا ہے ۔اجلاس پینل آف چیئرمین رانا منور حسین کی زیر صدارت ڈیڑھ گھنٹے سے زائد تاخیر سے شروع ہوا۔ اپوزیشن نے وزیر تعلیم کے اساتذہ سے متعلق بیان پر معافی کا مطالبہ کیا، جبکہ ضمنی بجٹ پر بحث کے دوران شیخ امتیاز، میاں اعجاز شفیع، رانا آفتاب، ناصر چیمہ، زرناب شیر اور دیگر ارکان نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ ضمنی بجٹ کے ذریعے وی وی آئی پی اخراجات، بلٹ پروف گاڑیوں اور دیگر غیر ضروری مدات پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ تعلیم، صحت اور زراعت کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔حکومتی ارکان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فنڈز عوامی فلاح، انفراسٹرکچر، پولیس، انسداد دہشت گردی اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ احسن رضا خان نے کہا کہ سیاسی مداخلت کے خاتمے کا کریڈٹ وزیراعلیٰ مریم نواز کو جاتا ہے اور ضمنی بجٹ کی ہر رقم شفاف انداز میں خرچ کی جا رہی ہے ۔ اجلاس کے دوران اس وقت شدید ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی جب حکومتی رکن احسن رضا خان نے اپوزیشن رکن اویس ورک کے والد، سابق پولیس افسر عمر ورک، کے بارے میں ریمارکس دیے ۔
اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا، جبکہ پینل آف چیئر نے متنازعہ الفاظ کارروائی سے حذف کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے اجلاس دس منٹ کے لیے ملتوی کر دیا۔اجلاس دوبارہ شروع ہونے پر سپیکر ملک محمد احمد خان نے دونوں ارکان کو تحمل سے کام لینے کی ہدایت کی اور کہا کہ اسمبلی کے تقدس کو ہر صورت برقرار رکھا جانا چاہیے ۔ سپیکر کی ہدایت پر احسن رضا خان نے اپنے الفاظ واپس لیتے ہوئے معذرت کی، جس کے بعد اویس ورک نے بھی جذبات میں کہے گئے الفاظ پر معذرت کر لی اور معاملہ خوش اسلوبی سے نمٹا دیا۔اپوزیشن رکن رانا آفتاب احمد خان نے کہا کہ ایک کاغذ نظر سے گزرا ہے جس میں ہیبی چوئل بل کو دیکھا ہے ،یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ، پنجاب کنٹرول آف ہیبی چوئل آفینڈرز بل 2026 انسانی حقوق کے مطابق نہیں ،آنے والی نسلیں اس بل سے متاثر ہوں گی ،حکومت ہمیشہ نہیں رہنی آپ پر بھی لاگو ہو سکتا ہے ۔ سپیکر ملک محمد احمد خان نے پنجاب کنٹرول آف ہیبی چوئل آفینڈرز بل 2026 بل سے لاعلمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس پر سخت ایکشن لوں گا، انگریز دور کا نوآبادیاتی نظام کا قانون ممکن نہیں ہے ۔ آئین اور قانون کی کتاب کی ایمانداری سے پاسداری کرتا ہوں ،دریں اثنا سپیکر نے پیپلز پارٹی کی رکن نیلم جبار کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے خلاف زیر التوا شکایات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو آج (پیر کو ) پنجاب اسمبلی میں طلب کر لیا۔ اجلاس میں ضمنی بجٹ پر دیگر ارکان نے بھی اظہار خیال کیا، جس کے بعد کارروائی آج (پیر تک ) ملتوی کر دی گئی۔