پنکی کا پروٹوکول وزیراعظم سے زیادہ،چیئرمین ذیلی کمیٹی داخلہ برہم
خاتون تو ایوان سے بڑی ہو گئی ، جب گرفتار ہوئی تو آدھا زلزلہ پارلیمنٹ میں بھی آیا ٹیکس چوری کی غلط معلومات دینے پر چیف آپریشنز ایف بی آر کو اجلاس سے نکال دیاگیا
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں ) سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے سوال اٹھایا کہ پنکی کے پیچھے 20،20 پولیس موبائل جارہی ہیں اتنا پروٹوکول تو وزیراعظم کا بھی نہیں۔ ذیلی کمیٹی کا اہم اجلاس کنوینر و چیئرمین سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی صدارت میں ہوا جس میں ملزمہ انمول عرف پنکی کے کیس پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران ڈی آئی جی ساؤتھ سید علی رضا سمیت سندھ پولیس کے اعلیٰ حکام نے بریفنگ دی۔ اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ملزمہ کو حاصل غیر معمولی سکیورٹی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب انمول پنکی کو عدالت میں پیش کیا گیا تو اس کے پیچھے 20، 20 پولیس موبائلز لگائی گئیں، اتنا پروٹوکول تو ملک کے وزیراعظم کو بھی نہیں ملتا۔
ایک منتخب سینیٹر کو سکیورٹی نہیں دی جا سکتی لیکن ایک ملزمہ کو 20 گاڑیاں دینے کے پیچھے کیا وجہ ہے ؟یہ خاتون تو پوری پارلیمنٹ سے بڑی ہوگئی ، جب یہ گرفتار ہوئی تھی تو آدھا زلزلہ پارلیمنٹ میں بھی آیا تھا، پتہ کیا جائے کہ اس خاتون کے پیچھے کون سی شخصیات ہیں؟۔ علاوہ ازیں ٹیکس چوری کی غلط معلومات دینے پر سینیٹ کمیٹی نے چیف آپریشنز ایف بی آر کو اجلاس سے باہر نکال دیا۔ اجلاس کے دوران وزارت اطلاعات سے تمباکو سے متعلق ٹی وی چینلز کو جاری کیے گئے اشتہارات کی تفصیلات طلب کی گئیں جبکہ پاکستان میں سگریٹ بنانے والی کمپنیوں اور برانڈز کی فہرست اور ان کی جانب سے ادا کئے گئے ٹیکس کی مکمل تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں،اجلاس کے دوران ٹیکس چوری کے معاملے پر غلط معلومات فراہم کرنے پر چیئرمین کمیٹی چیف آپریشنز ایف بی آر پر سخت برہم ہوگئے ۔
انہوں نے گیٹ آؤٹ فرام کمیٹی کہتے ہوئے چیف آپریشنز ایف بی آر کو اجلاس سے باہر جانے کی ہدایت کی۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ایسے گندے افسران کو اہم عہدوں پر بٹھایا گیا ہے جو غلط معلومات فراہم کر رہے ہیں، متعلقہ وزیر کو لکھا جائے کہ انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ 3سے 4افسران نے پورے ملک کا بیڑا غرق کر رکھا ہے ۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ جب بھی وہ ایف بی آر کو کمیٹی میں طلب کرتے ہیں تو اسی روز انہیں نوٹس بھیج دیا جاتا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایف بی آر کو بتانا چاہتے ہیں کہ ان کی کوئی تمباکو کمپنی نہیں ہے ۔ انہوں نے وزیراعظم سے اپیل کی کہ چند مخصوص افسران سے ملک کو نجات دلائی جائے ۔اجلاس میں 25کروڑ روپے مالیت کے سگریٹ چوری کیس کا بھی جائزہ لیا گیا۔