پنجاب حکومت کا متنازعہ بل پر نظر ثانی کا فیصلہ

پنجاب حکومت کا متنازعہ بل پر نظر ثانی کا فیصلہ

بل سیاسی انتقام کیلئے نہیں، جہاں بہتری کی ضرورت ہوئی وہاں ترامیم کرینگے سندھ اسمبلی قانون منظور کر چکی ،ایسے قوانین وقت کی ضرورت :عظمیٰ بخاری

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئل آفینڈرز بل پر سامنے آنے والے تمام اعتراضات کا جائزہ لیا جائے گا اور جہاں بہتری کی ضرورت ہوئی، وہاں ضروری ترامیم کی جائیں گی، حتیٰ کہ ضرورت پڑنے پر پورا بل بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔ یہ محض ایک ڈرافٹ بل ہے ، جس کا مقصد قانون کو بہتر بنانا ہے ۔ اس بل کے ذریعے 1918 کے قانون اور پنجاب کنٹرول آف غنڈہ ایکٹ 1959 کو منسوخ کرکے ایک نیا قانون لانے کی تجویز دی گئی ہے ۔

اسمبلیوں میں بل اسی لیے پیش کیے جاتے ہیں تاکہ اجتماعی دانش (کلیکٹو وزڈم)سے انہیں مزید بہتر بنایا جا سکے ۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے کبھی بھی کسی بل پر نظرثانی سے انکار نہیں کیا، اسی لیے انہوں نے بھی ہدایت کی ہے کہ اس بل کا دوبارہ جائزہ لیا جائے ۔ یہ بل عام شہریوں کیلئے نہیں بلکہ صرف عادی مجرموں کے بارے میں ہے ۔ عادی مجرم وہ شخص ہوگا جس کے خلاف بار بار مقدمات درج ہوئے ہوں، جو متعدد جرائم میں ملوث رہا ہو اور جسے عدالت سزا دے چکی ہو۔ اس بل کو سیاسی انتقام سے جوڑنا درست نہیں، حالانکہ اسے غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے ۔ بل میں موجود تمام اعتراضات کا جائزہ لیا جائے گا اور جن شقوں میں بہتری کی ضرورت ہوگی، انہیں ضرور تبدیل کیا جائے گا۔

گالی سے متعلق شق پر اظہار خیال کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ روزمرہ زندگی میں بعض اوقات لوگ غصے یا مذاق میں بھی ایسے الفاظ استعمال کر دیتے ہیں، اس لیے اس معاملے کا بھی جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق ترمیم کی جائے گی۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے بھی اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے بل کا مکمل مطالعہ نہیں کیا تھا۔ ان کے مطابق سندھ اسمبلی 2023 میں اسی نوعیت کا قانون منظور کر چکی ہے اور ایسے قوانین وقت کی ضرورت ہیں۔ پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئل آفینڈرز بل کو نظرثانی اور ضروری ترامیم کے بعد اگست میں دوبارہ پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں