پاک بھارت آبی تنازع اہم سٹرٹیجک چیلنج بن سکتا
بھارت دباؤ کی پالیسی جاری رکھے گا لیکن مقصد کامیاب ہوجانا یقینی نہیں
(تجزیہ:سلمان غنی)
پاکستان پانی کے مسئلے کو اپنی بقا سے جوڑتے ہوئے کسی کمپرومائز پر تیار نہیں اور عالمی قوتوں اوراداروں کو خبردار کر رکھا ہے کہ بھارت نے پاکستان کے پانی پر رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو پاکستان اس کے خلاف ممکنہ اقدامات کرے گا۔ اسلام آباد میں اس ضمن میں منعقدہ پریس کانفرنس میں وفاقی وزرامصدق ملک اور عطا اللہ تارڑ نے دوٹوک انداز میں بھارت کو خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان کے پانی پر ہاتھ ڈالا گیا تو ایسا ہاتھ کاٹ دیں گے جو پاکستان کے اس حوالے سے اصولی موقف کا آئینہ دار ہے اور پاکستان کسی قیمت پر پسپائی اختیار نہیں کرسکتا۔ اس ضمن میں سندھ طاس معاہدہ موجود ہے جس سے بھارت انحراف کی کوشش کرتا دکھائی دے رہا ہے لیکن عالمی ادارے واضح کر چکے ہیں کہ ایسے کسی معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ گزشتہ سال مئی میں ہونے والی شکست فاش نے بھارت کے اوسان خطا کر رکھے ہیں ،نریندر مودی نفسیاتی کیفیت سے دوچار ہیں ،بھارت کبھی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے افغان سرزمین کا استعمال کرتا ہے اور اب اس نے پاکستان کے پانی پر بند باندھنے اور رکاوٹیں پیدا کرنے کا سوچ رکھا ہے ، بھارتی وزرا کہتے نظر آتے ہیں کہ وہ دو سال تک پاکستان کیلئے ایک بوند پانی کی سپلائی بھی ختم کردیں گے ، اس طرح سے مودی سرکار اب آبی دہشت گردی پر اترتی نظر آ رہی ہے۔
ماہرین تو کھلے طور پر یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ پاکستان کا پانی روکنا بھارت کی خواہش تو ہوسکتی ہے لیکن عملاً ایسا ممکن نہیں ۔موجودہ آبی ڈھانچے کی وجہ سے وہ یکدم پاکستان کا پانی روکنے کی پوزیشن میں نہیں ، بھارت مستقبل میں نئے ڈیم ذخائر یا نہری منصوبے تعمیر کرتا ہے تو بعض اوقات پانی کے بہاؤ کے وقت اور مقدار پر محدود وقت کیلئے اثرانداز ہوسکتا ہے ۔ مگر اس کیلئے برسوں درکار ہوں گے ،یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ،بین الاقوامی قوانین دوطرفہ تعلقات اور سفارتی تنازعات سے جڑا ہوا ہے ۔ البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کا ایشو اہم اور سٹرٹیجک چیلنج بن سکتا ہے اس لئے پاکستان نے پہلے سے ہی نئے آبی ذخائر، نہری پانی کی بہتری اور پانی کے مؤثر استعمال پر توجہ دینا شروع کر رکھی ہے ۔
حالیہ بجٹ میں اس حوالے سے خطیر رقم بھی مختص کی گئی ہے ۔بھارتی لیڈر شپ کی دھمکیوں کے عمل کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ اس کی داخلی سیاست اور سفارتی دباؤ کی حکمت عملی کا نتیجہ ہے ۔بھارت غالباً پاکستان پر سفارتی ،سیاسی اور عالمی سطح پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے لیکن وہ اپنی اس حکمت عملی کو نتیجہ خیز نہیں بنا سکتا، اس لئے کہ آج کا پاکستان ماضی کے مقابلہ میں عالمی و علاقائی صورتحال میں بھارت کے مقابلہ میں بہتر پوزیشن پر ہے ، بھارت کو ہونے والی شکست فاش کے بعد امریکا ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکراتی عمل کو یقینی بنانے کے عمل نے پاکستان کی سفارتی پوزیشن بہت بہتر بنا دی ہے ، آج دنیا پاکستان کی بات سنتی اور پاکستان کی طرف دیکھتی نظر آتی ہے ۔موجودہ حالات میں امکان یہی ہے کہ بھارت دباؤ کی پالیسی جاری رکھے گا لیکن اس کے لئے مقصد کا حامل ہو جانا یقینی نہیں، دوسری طرف پاکستان کیلئے مؤثر سفارتکاری، پانی کے وسائل کا بہتر انتظام اور داخلی استحکام اس چیلنج کا اہم جواب ہیں۔