جعلی ادویات سے لوگ مررہے، زندگیوں سے کھیلنے کا لائسنس نہیں دیا جاسکتا : جسٹس ملک شہزاد احمد

جعلی ادویات سے لوگ مررہے، زندگیوں سے کھیلنے کا لائسنس نہیں دیا جاسکتا : جسٹس ملک شہزاد احمد

اگر ملزمان بے قصور ہیں تو ڈریپ نے مقدمہ کیوں بنایا؟:ریمارکس ، ٹھوس شواہد پیش کریں:جسٹس جمال مندوخیل ملزمان کی عبوری ضمانت میں آئندہ سماعت تک توسیع، مقدمہ کا مکمل ریکارڈ طلب، کیس جلد مقرر کرنے کی ہدایت

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر) سپریم کورٹ نے جعلی ادویات بنانے اور بیرون ملک بھجوانے کے الزام میں نامزد ملزمان کی قبل از گرفتاری ضمانتوں میں آئندہ سماعت تک توسیع کرتے ہوئے ایف آئی اے سے مقدمے کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا اور ڈریپ کے وکیل کو ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد پیش کرنے کی ہدایت کی۔ جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل بینچ نے سماعت کی۔ ڈریپ کے وکیل نے کہا کہ ملزمان جعلی ادویات تیار کرکے بیرون ملک بھجوا رہے تھے ، اقوام متحدہ نے بھی ان ادویات کے حوالے سے رپورٹ جاری کی تھی۔

جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے ریمارکس دیئے کہ جعلی ادویات کی وجہ سے ہر روز لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، کسی کو یہ لائسنس نہیں دیا جا سکتا کہ وہ جعلی ادویات بنا کر لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالے ۔ ملزمان کے وکیل نے کہاان کے موکلوں کا کمپنی سے کوئی تعلق نہیں۔ جسٹس عقیل احمد عباسی نے ریمارکس دیئے کہ گلی کوچوں میں فارماسیوٹیکل کمپنی نہیں چل سکتی، ادویات کی تیاری کوئی چارپائی بنانا نہیں کہ بغیر اجازت شروع کر دی جائے ۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے ڈریپ کے وکیل سے کہا ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں۔ جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیئے کہ اگر ملزمان بے قصور ہیں تو بتائیں ڈریپ نے ان کے خلاف مقدمہ کیوں بنایا؟۔عدالت نے ضیا خالد سمیت تین ملزمان کی عبوری ضمانت میں آئندہ سماعت تک توسیع کرتے ہوئے ایف آئی اے سے مقدمے کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا اور ہدایت کی کہ کیس جلد سماعت کیلئے مقرر کیا جائے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں