سندھ ہائیکورٹ آئینی بینچ نے 10 ریفرنسزاحتساب عدالتوں میں بحال کر دیئے

 سندھ ہائیکورٹ آئینی بینچ  نے 10  ریفرنسزاحتساب عدالتوں میں بحال کر دیئے

امانت میں خیانت،سرکاری ریکارڈ میں جعلسازی جیسے مقدمات میں ذاتی مالی فائدے کے ثبوت نہ ہونے کی بناپراحتساب عدالت کا دائرہ اختیار ختم نہیں ہوجاتا، ریمارکس احتساب عدالتیں ریفرنس کو دوسرے فورم پر منتقل کرنے سے قبل قانون کے مطابق نیب کی معاونت لینے کی پابند قرار، 18 آئینی درخواستوں پر تفصیلی فیصلہ جاری مصطفی کمال،سابق ڈی جی ایس بی سی اے افتخار قائمخانی،سابق چیئرمین کے پی ٹی احمد حیات،جاوید اقبال،علی رضا،صدیق میمن اوراقبال زیڈ احمد کیخلاف ریفرنسز شامل

کراچی (عبدالحسیب خان) سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے قومی احتساب آرڈیننس میں 2022 کی ترامیم کے بعد مختلف احتساب ریفرنسز کی منتقلی سے متعلق 18 آئینی درخواستوں پر تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ احتساب عدالتیں کسی بھی ریفرنس کو دوسرے فورم پر منتقل کرنے سے قبل قانون کے مطابق نیب کی معاونت لینے کی پابند ہیں۔ عدالت نے غیر قانونی اراضی الاٹمنٹ، سرکاری اراضی پر قبضوں، اختیارات کے ناجائز استعمال، ادویات کی خریداری، کے پی ٹی اور دیگر مالی بے ضابطگیوں سے متعلق 10 ریفرنسز دوبارہ احتساب عدالتوں میں بحال کر دیئے ، 3 ریفرنسز دوبارہ جائزے کے لیے احتساب عدالت کو واپس بھیج دیئے ، 3 مقدمات میں احتساب عدالتوں کے فیصلے برقرار رکھے جبکہ ایک ریفرنس متعلقہ محکمے کو بھیجنے کا حکم دیا۔ جسٹس محمد سلیم جیسر اور جسٹس نثار احمد بھنبھرو نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ احتساب عدالتوں نے متعدد مقدمات میں قومی احتساب آرڈیننس کی دفعہ 4 اور دفعہ 9 کی درست تشریح نہیں کی اور بعض معاملات میں نیب کی لازمی معاونت حاصل کیے بغیر ریفرنسز اینٹی کرپشن عدالتوں، ایف آئی اے ، سیشن عدالت یا دیگر فورمز کو منتقل کر دیئے ، جو قانون کے مطابق نہیں تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ غیر قانونی طور پر سرکاری اراضی کی منتقلی، امانت میں خیانت اور سرکاری ریکارڈ میں جعلسازی جیسے مقدمات میں صرف ذاتی مالی فائدے کے ثبوت نہ ہونے کی بنیاد پر احتساب عدالت کا دائرہ اختیار ختم نہیں ہو جاتا۔ اگر سرکاری افسر اپنی تحویل میں موجود سرکاری املاک کو جعلسازی یا بدنیتی سے نجی افراد کے نام منتقل کرے تو و امانت میں خیانت کا مرتکب بنتا ہے ، جو ایک مستقل جرم ہے اور اس کے لیے ذاتی مالی فائدے کا الگ ثبوت لازمی نہیں۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ ریونیو افسران سرکاری زمین کے امین ہوتے ہیں اور اگر وہ جعلسازی کے ذریعے سرکاری اراضی نجی افراد کے نام منتقل کریں تو یہ صرف اختیارات کے ناجائز استعمال کا نہیں بلکہ امانت میں خیانت کا بھی جرم بنتا ہے ۔ عدالت نے یہ بھی آبزرویشن دی کہ آج کل جائیدادیں بے نامی افراد کے ذریعے رکھی جاتی ہیں، اس لیے ہر مقدمے میں ذاتی مالی فائدے کا براہ راست ثبوت ملنا ضروری نہیں ہوتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ احتساب عدالت نے متعدد مقدمات میں صرف ذاتی مالی فائدے کی شرط کو بنیاد بنایا جبکہ یہ دیکھنے کی ضرورت تھی کہ آیا مقدمہ امانت میں خیانت کے زمرے میں بھی آتا ہے یا نہیں۔

نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر سید منظور علی شاہ نے موقف اختیار کیا کہ احتساب عدالتوں نے قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ریفرنسز اینٹی کرپشن عدالتوں اور دیگر فورمز کو منتقل کر دیئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے والے مقدمات میں ذاتی مالی فائدہ ہونا یا نہ ہونا شواہد کا معاملہ ہے جس کا فیصلہ مکمل ٹرائل کے بعد ہونا چاہیے ، ابتدائی مرحلے پر ریفرنس منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب سینئر وکیل فاروق ایچ نائیک، عبید الرحمن، منور علی بھگت، تیمور علی، محمد عمار، شوکت حیات، آمنہ مگسی، ایان مصطفیٰ میمن، شہزیب اختر خان، غلام مصطفیٰ، ریاض عالم خان، ذوالفقار علی، اسد علی منگریو اور فاروق افتخار نے مؤقف اختیار کیا کہ 2022 کی ترامیم کا اطلاق زیر سماعت مقدمات پر بھی ہوتا ہے ، احتساب عدالتوں نے قانون کے مطابق ریفرنسز منتقل کیے ، بعض مقدمات میں نیب کے پراسیکیوٹر نے بھی منتقلی پر اعتراض نہیں کیا جبکہ ان احکامات کے خلاف آئینی درخواستیں قابل سماعت نہیں تھیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ بعض احکامات کے خلاف اپیل بھی دائر کی جا سکتی تھی تاہم چونکہ قومی احتساب آرڈیننس کی دفعات کی تشریح کا اہم قانونی سوال موجود تھا، اس لیے آئینی درخواستیں بھی قابل سماعت تھیں۔ عدالت نے 10 ریفرنسز دوبارہ احتساب عدالتوں میں بحال کرتے ہوئے متعلقہ احکامات کالعدم قرار دے دیئے۔

ان ریفرنسز میں سابق وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال اور سابق ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی افتخار قائم خانی کے خلاف پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کا ریفرنس، سابق چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ایڈمرل احمد حیات کے خلاف کے پی ٹی اور کے آئی سی ٹی کو مبینہ غیر قانونی فائدہ پہنچانے کا ریفرنس، نجی بلڈر جاوید اقبال کے خلاف سرکاری زمینوں پر قبضے اور منتقلی کے تین مختلف ریفرنسز، سید علی رضا کے خلاف کور بینکنگ سسٹم کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگی، رحیم بخش کے خلاف کوآپریٹو سوسائٹی کی اراضی کی غیر قانونی انٹری، قاضی عبدالوہاب کے خلاف ادویات کی خریداری میں مبینہ کرپشن، محمد صدیق میمن کے خلاف سرکاری زمین کی ریگولرائزیشن اور اقبال زیڈ احمد کے خلاف ایل پی جی اور ایل این جی کی خرید و فروخت اور منی لانڈرنگ سے متعلق ریفرنس شامل ہیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ اگر یہ ریفرنسز پہلے ہی اینٹی کرپشن عدالت، ایف آئی اے یا کسی دوسرے فورم کو بھیجے جا چکے ہیں تو نیب انہیں واپس متعلقہ احتساب عدالتوں میں منتقل کرائے تاکہ وہاں مقدمات کی کارروائی دوبارہ شروع ہو سکے ۔ عدالت نے گلشن دوزان ہاؤسنگ اسکیم سے متعلق تین درخواستیں منظور کرتے ہوئے ریفرنس دوبارہ احتساب عدالت کراچی کو بھیج دیا اور ہدایت کی کہ نیب کی معاونت سے دوبارہ یہ طے کیا جائے کہ آیا یہ مقدمہ قومی احتساب آرڈیننس کی دفعہ 5(o) یا 5(s) کے دائرے میں آتا ہے یا نہیں، اس کے بعد نیا فیصلہ کیا جائے۔

عدالت نے وامق محمد یوسف کے خلاف پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مبینہ فراڈ کے ریفرنس، عبدالسلام منگھرو کے خلاف کم مالیت کی جائیداد والے ریفرنس اور آصف صدیقی کے خلاف کمپنی معاملات سے متعلق ریفرنس میں احتساب عدالتوں کے فیصلے برقرار رکھتے ہوئے درخواستیں مسترد کر دیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ وامق محمد یوسف کے مقدمے میں 101 متاثرین موجود تھے اور رقم بھی 535 ملین روپے سے زائد تھی، اس لیے مقدمہ احتساب عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے ، جبکہ عبدالسلام منگھرو کے مقدمے میں جائیداد کی ایف بی آر ویلیو 500 ملین روپے سے کم تھی، اس لیے اس کی منتقلی درست تھی۔ اسی طرح آصف صدیقی کے مقدمے میں معاملہ ایس ای سی پی کو بھیجنا قانونی تھا۔ عدالت نے سابق آئی جی غلام حیدر جمالی کے خلاف پولیس بھرتیوں سے متعلق ریفرنس میں قرار دیا کہ اگر بھرتیاں اب تک برقرار ہیں اور کسی اہلکار کو محکمانہ کارروائی کے ذریعے برطرف نہیں کیا گیا تو نیب ریفرنس خودبخود ختم تصور ہوگا، جبکہ اگر برطرفی ہو چکی ہے تو ذمہ دار افسران سے سندھ سول سرونٹس رولز 1974 کے تحت مالی نقصان وصول کیا جائے اور ریفرنس متعلقہ محکمہ کو بھیج دیا جائے ۔فیصلے میں عدالت نے یہ بھی آبزرویشن دی کہ احتساب عدالتوں نے ریفرنسز کی منتقلی سے قبل نیب کی معاونت حاصل نہیں کی، حالانکہ قانون میں لفظ shall استعمال کیا گیا ہے ، جو اس امر کو لازمی بناتا ہے ۔ عدالت کے مطابق اگر احتساب عدالتیں نیب کی معاونت سے مقدمات کا جائزہ لیتیں تو بعد میں ان احکامات کے خلاف نیب کو عدالت عالیہ سے رجوع کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں