وفاق نے قبائلی اضلاع کیلئے پختونخوا حکومت کو فنڈز دیئے :اختیار ولی
پی ٹی آئی حکومت قبائلی عوام کے ساتھ ظلم کر رہی :کوآرڈینیٹر وزیراعظم اعلان کچھ اوردیا کچھ جاتاہے :مزمل اسلم:پروگرام ’’مہربخاری کیساتھ‘‘
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے قبائلی اضلاع کیلئے پختونخوا حکومت کو فنڈز دیئے ہیں،2013 میں کے پی کے کو 704 ارب روپے دیئے گئے لیکن رقم قبائلی اضلاع میں استعمال نہیں ہوئی،اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اکاؤنٹ ایک ہی رکھا ہوا تھا۔دنیا نیوز کے پروگرام ''مہربخاری کیساتھ''میں گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے مزید کہا کہ تحریک انصاف والے تیرہ ،چودہ سال سے قبائلی اضلاع کے ساتھ ظلم کر رہے ہیں، وہاں پرکوئی ایک سکول،ہسپتال اورسڑک تک نہیں بنی،قبائلی اضلاع کے نام پر یہ لوگ پیسے بٹورتے اورسیاست تو کرتے ہیں لیکن ان لوگوں کو حق نہیں دیتے ،یہاں تک دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بھی پیسے لیتے ہیں اورکھا جاتے ہیں ۔
مشیر وزیرخزانہ کے پی کے مزمل اسلم نے کہا ہے کہ وفاق کی طرف سے صوبائی حکومت کو دو طرح کے فنڈز ملتے ہیں ، وفاقی حکومت نے 80 ارب دیئے اورصوبائی حکومت نے 160 ارب لگائے ،اختیار ولی کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ بجٹ پڑھ لیں،پچھلے دوسال سے جو ہم کر رہے ہیں، اگلے سال کا جو بجٹ دیا191 ارب کا کرنٹ سائیڈ پر صرف ، وفاق نے 95 ارب دیا ہے ، دوسری بات یہ ہے کہ جو ترقیاتی اخراجات ہیں اس کیلئے وفاق اعلان کچھ کر تا ہے اور دیتا کچھ ہے ، پچھلے سال 66 ارب روپے دینے کا اعلان کیا مگر دیئے 50 ارب روپے ، اس سال 66 ارب کے بجائے 56 ارب کا اعلان کیا،اب ملتا کیاہے اس کا علم نہیں،لیکن صوبائی حکومت نے زیادہ پیسے خرچ کئے ہیں،پہلی بات یہ ہے کہ اختیار ولی کو یہ نہیں پتا کہ فاٹا کا مرجر 2018 میں ہوا تھا یہ ہمیں 2005اور 2010کے اعدادوشمار بتا رہے ہیں،دوسری بات یہ ہے کہ ہم تو کہتے ہیں کہ آپ ہمیں ایک روپیہ نہ دیں،آپ ہمیں این ایف سی میں مرجر دیں ،یہ لوگ وزیر اعظم ہاؤ س میں ہونے والی جو میٹنگ کی بات کرتے ہیں، اس کے ثبوت کہاں ہیں ؟،کے پی کے کا جو بجٹ ہے یہ سارا کا سارا عوام کیلئے بنایا ہے ۔