اسلام آباد : پاک فضائیہ کا بہادر افسر لڑکی کو اغوا سے بچاتے شہید
گروپ کیپٹن عاصم کے نمرہ نامی لڑکی کو اغوا سے بچانے کیلئے مداخلت پرملزم سعد نے فائرنگ کر دی سعد، نمرہ ایک ہی جگہ ملازم تھے ،سیف سٹی کیمروں، اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزم گرفتارکرلیا :آئی جی
اسلام آباد(دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک )پاک فضائیہ کے بہادر افسر ایک لڑکی کو اغوا سے بچاتے ہوئے شہید ہوگئے۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق گروپ کیپٹن عاصم نائنتھ ایونیو سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے ایک موٹرسائیکل سوار کو لڑکی کا ہاتھ کھینچتے دیکھا اور ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے وہ واپس مڑے اور موٹرسائیکل کے قریب جا کر صورتحال جاننے کی کوشش کی۔پولیس کے مطابق لڑکی گروپ کیپٹن عاصم کی گاڑی کی جانب آ گئی جس پر مبینہ ملزم سعد نے ان سے بدکلامی کی اور پھر فائرنگ کر دی جس سے کیپٹن عاصم شدید زخمی ہوئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے جبکہ ملزم موقع سے فرار ہوگیا۔پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون نے بیان دیا کہ ملزم اس کا دفتر میں کولیگ تھا جس نے اسے کام پر ساتھ لے جانے کی پیشکش کی تاہم بعد میں راستہ تبدیل کرکے اسے کسی اور مقام پر لے جانا چاہتا تھا جس پر وہ اس سے زور آزما رہا تھا۔
پولیس کے مطابق خاتون نے اپنے بیان میں کہا کہ گروپ کیپٹن عاصم نے بروقت مداخلت کرکے اسے محفوظ بنایا ۔گروپ کیپٹن عاصم شہید نے سوگواران میں بیوہ، بیٹی اور بیٹا چھوڑا ہے ۔ڈی آئی جی آپریشنز جواد طارق کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس(آئی جی آئی پی) علی ناصر رضوی نے کہا کہ گروپ کیپٹن عاصم کو شہید کرنے والا ملزم سعد 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا۔ علی ناصر رضوی کا کہنا تھا کہ صبح 11 بج کر 21 منٹ پر پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں گروپ کیپٹن عاصم اس وقت موقع پر پہنچے جب انہوں نے ایک لڑکی اور ملزم کے درمیان جھگڑا دیکھا۔انہوں نے کہا کہ گروپ کیپٹن نے انسانی ہمدردی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مداخلت کی اور ملزم کو لڑکی سے بدتمیزی اور جھگڑا کرنے سے روکا تاہم ملزم سعد عباسی نے طیش میں آ کر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں عاصم شہید ہو گئے ۔
آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ ملزم سعد عباسی اور لڑکی نمرہ دونوں جی-6 سیکٹر میں واقع ایک نجی کیش اینڈ کیری سٹور میں ملازم تھے ، ملزم خاتون کو کسی پارک یا دوسری جگہ لے جانا چاہتا تھا جبکہ خاتون اس پر آمادہ نہیں تھی اور صرف کام کی جگہ تک محدود رہنا چاہتی تھی۔علی ناصر رضوی نے کہا کہ دونوں کے درمیان تعلق صرف تقریباً 10 روز پر مشتمل پک اینڈ ڈراپ تک محدود تھا اور لڑکی کو ملزم کے گھر تک کا بھی علم نہیں تھا۔آئی جی کا کہنا تھا کہ واقعہ پولیس کے لیے ایک بڑا اور چیلنجنگ کیس تھا جس کی تفتیش کے لیے فوری طور پر 11 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔
علی ناصر رضوی نے کہا کہ سیف سٹی کیمروں، اے آئی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل سرویلنس اور فزیکل انٹیلی جنس کی مدد سے ملزم کے کپڑوں، موٹرسائیکل اور نقل و حرکت کا سراغ لگایا گیا۔انہوں نے بتایا کہ واردات کے بعد ملزم نے سکائی وے سے ٹکٹ حاصل کیا، اپنا موبائل فون بند کر دیا اور شناخت چھپانے کے لیے کپڑے بھی تبدیل کیے تاہم پولیس ٹیموں نے مسلسل تعاقب کے بعد اسے 9 گھنٹوں کے اندر گرفتار کر لیا۔آئی جی اسلام آباد کا مزید کہنا تھا کہ گروپ کیپٹن عاصم نے اعلیٰ حب الوطنی، جرات اور شہری ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک لڑکی کی مدد کی کوشش کی۔علی ناصر رضوی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملزم سعد عباسی کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے اسے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔