ساہیوال:ہسپتال انتظامیہ نے زندہ بچی مردہ قراردیدی
ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر میت وصولی بھی کروادی حوالے نہ کی،اغوا کیا گیا:لواحقین پولیس،میڈیا کی مداخلت پر زندہ بچی لواحقین کو مل گئی، غلط فہمی ہوئی:انتظامیہ
ساہیوال ، لاہور(سٹی رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال ساہیوال کے چلڈرن وارڈ میں انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت، نو مولود زندہ بچی کو مر دہ قراردیدیا۔ انتظامیہ نے چک 109/9ایل کے رہائشی اشرف کی نومولود بیٹی کو مردہ قرار دے کر ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر بچی کے ماموں سے میت کی وصولی بھی کروا دی ، تاہم میت حوالے نہ کی ،جس پر لواحقین سراپا احتجاج بن گئے اور انہوں نے ہسپتال کی انتظامیہ پر بچی اغوا کرنے کا الزام لگادیا۔بچی کی لاش نہ ملنے پر لواحقین نے 15 کال کی تو انتظامیہ مشکل میں آگئی،پولیس اور میڈیا کی مداخلت کے بعد معلوم ہوا کہ جس نومولود بچی کو مردہ قرار دیا گیا تھا وہ زندہ ہے ۔
بعد ازاں ہسپتال کی انتظامیہ نے زندہ بچی لواحقین کے حوالے کر دی ۔لواحقین کا مؤقف تھا کہ چلڈرن وارڈ انتظامیہ نے ہماری نومولود بچی کو جان بوجھ کر مردہ قرار دیا،متاثرہ خاندان کے مطابق ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں لواحقین کا موبائل نمبر بھی غلط درج کیا گیا تھا ۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے نوٹس لینے اور ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ادھر ہسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بچیوں کی والدہ کے نام ایک جیسے ہونے سے غلط فہمی پیدا ہوئی، والدہ کے ناموں کی مماثلت کے باعث ڈیتھ سرٹیفکیٹ غلط اہلخانہ کو جاری کر دیا گیا۔انتظامیہ نے کہا کہ تحقیقات میں معلوم ہوا نومولود بچی زندہ ہے جبکہ وفات پانے والی دوسری بچی تھی، ہسپتال انتظامیہ نے ریکارڈ کی دوبارہ جانچ کے بعد دونوں بچیوں کی درست شناخت کی، والدہ کے نام ایک جیسے ہونے کی وجہ سے غلط فہمی پیدا ہوئی۔