شدید گرمی، ٹرپنگ، شارٹ فال، آئیسکو سمیت ڈسکوز کا نظام متاثر، 12 گھنٹے بجلی بند
نیو روات،سنگجانی گرڈ سٹیشنوں میں فنی خرابیوں سے راولپنڈی، اسلام آباد، اٹک، جہلم، کہوٹہ، دینہ،سوہاوہ متاثر بجلی کی طلب 2449 ، فراہمی 2050 میگاواٹ، رات کو سولر بند ہونے سے نیشنل گرڈ پر بجلی کا لوڈ بڑھ جاتاہے :ذرائع
اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)پاکستان کے پاور سیکٹر میں جہاں پہلے بجلی کی پیداوار ایک بڑا مسئلہ سمجھی جاتی تھی وہیں ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن سسٹم کے مسائل اس سے بھی بدتر ہیں۔ بجلی گھروں میں بجلی پیدا ہونے کے بعد جن ٹرانسمیشن لائنوں کے ذریعے بجلی منتقل ہوتی ہے اور پھر جس نظام کے تحت اس کی ڈسٹری بیوشن ہوتی ہے اس میں گرمی بڑھنے سے ٹرپنگ اور اوور لوڈنگ جیسے مسائل کا سامنا ہے ۔جہاں ملک میں شہری 46 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک کی گرمی برداشت کرتے ہیں وہیں انہیں بلا تعطل اور مسلسل بجلی کی فراہمی ممکن نہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں میں اس وقت بارہ گھنٹے سے زائد کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے ۔ مختلف تقسیم کار کمپنیاں مختلف علاقوں میں لوڈ مینجمنٹ اور فورس لوڈ شیڈنگ کر رہی ہیں۔پاکستان کی سب سے مؤثر ڈسکوز میں شمار ہونے والی تقسیم کار کمپنی اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کا نظام بھی مسائل کا شکار ہے ۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے رات کے اوقات میں 300 سے 350 میگاواٹ کا شارٹ فال رہا اور آئیسکو کے نظام میں مسلسل خرابیاں سامنے آ رہی ہیں۔ آئیسکو کے ٹرانسفارمرز اور دیگر سسٹم میں اوور لوڈنگ اور ٹرپنگ کا مسلسل سامنا ہے ۔گزشتہ جمعہ شام کے اوقات میں 500 کے وی نیو روات گرڈ سٹیشن پر نصب 750 ایم وی اے آٹو ٹرانسفارمر میں فنی خرابی سامنے آئی جس کی وجہ سے 132 کے وی گرڈ سٹیشنز اولڈ روات، کہوٹہ، جہلم، دینہ، سوہاوہ اور بارہ گووا کو بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ اس طرح آئیسکو کے سسٹم کو اوور لوڈنگ سے محفوظ رکھنے کے لیے آزاد جموں و کشمیر، جہلم اور راولپنڈی کے علاقوں، بشمول اولڈ روات، کہوٹہ، دینہ، جہلم اور بارہ گووا کے گرڈ سٹیشنوں پر لوڈ شیڈنگ جاری رہی۔اس واقعے سے دو دن قبل 220 کے وی گرڈ سٹیشن سنگجانی میں 132 کے وی بس بار انسولیٹر میں تکنیکی خرابی سامنے آئی۔ خرابی کے باعث گرڈ سٹیشن میں نصب آٹو ٹرانسفارمرز سے بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی اور اس کے نتیجے میں آئیسکو ریجن کے اٹک، راولپنڈی اور اسلام آباد کو بجلی فراہم کرنے والے متعدد گرڈ سٹیشن متاثر ہوئے۔
اس سے قبل آئیسکو کی جانب سے جاری ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا تھا کہ آئیسکو ریجن میں بجلی کی طلب اور رسد میں فرق ہے یعنی آئیسکو کو بجلی کے شارٹ فال کا سامنا ہے ۔ پریس ریلیز کے مطابق ریجن میں بجلی کی موجودہ طلب 2449 میگاواٹ ہے جبکہ نیشنل گرڈ سے آئیسکو کو 2050 میگاواٹ بجلی کا کوٹہ میسر ہے ۔ طلب اور رسد میں آنے والے فرق کے باعث ریجن میں لوڈ مینجمنٹ شروع کی گئی ہے ۔اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی پاکستان کی بہترین کارکردگی دکھانے والی کمپنیوں میں سے ایک ہے ، جسے نجکاری کے لیے بھی سرفہرست رکھا گیا ہے لیکن اس کے سسٹم کو گرمی بڑھنے کے ساتھ ٹرپنگ اور مسلسل فنی خرابیوں کا سامنا ہے ۔ ذرائع نے روزنامہ دنیا کو بتایا کہ رات کے وقت بجلی کی طلب میں اضافے کے باعث ٹرپنگ اور دیگر مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دن کے اوقات میں لوگ سولر استعمال کرتے ہیں پھر رات کو سارا لوڈ نیشنل گرڈ پر منتقل ہو جاتا ہے ۔پاکستان کی دیگر ڈسکوز کی صورتحال اس سے بھی ابتر ہے ۔ مثال کے طور پر پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی میں 12 گھنٹے یا اس سے زائد دورانیے کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے ۔