حکومت ،ایم کیو ایم خود کو نظر انداز کرنیکی پوزیشن میں نہیں

 حکومت ،ایم کیو ایم خود کو نظر انداز کرنیکی پوزیشن میں نہیں

حکومت چھوڑنے کا اعلان محض دھمکی ،وفاق متحدہ کے کچھ مطالبات پر پیشرفت کریگا

(تجزیہ :سلمان غنی) 

 ایم کیوایم نے مطالبات تسلیم نہ کرنے پر حکومت کا ساتھ چھوڑنے اور اپوزیشن کے بینچوں پر بیٹھنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ مطالبات پر عملدرآمد نہ ہوا تو وفاق اور سندھ حکومت کیخلاف باقاعدہ احتجاجی تحریک شروع کرینگے اور اسکا حتمی اعلان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کرینگے ۔ مذکورہ اعلان ڈاکٹر فادوق ستار نے کیا۔ اس موقع پر انکے ساتھ ارکان اسمبلی بھی موجود تھے ۔ایم کیو ایم نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے کہا آخری وارننگ ہے کہ وہ آئیں کراچی بیٹھیں اور ہمارے اٹھارہ مطالبات پر عملدرآمد یقینی بنائیں ۔ اس امر کا جائزہ لینا ہوگا کہ ایم کیو ایم حکومت کیخلاف دھمکیوں پر کیونکر اتر آئی ، مطالبات کیاہیں، ان پر پیشرفت کیوں نہیں ہورہی اور ایم کیو ایم سندھ میں اپنا گورنر لانے کی بات کر رہی ہے تو یہ کیاکسی معاہدہ میں شامل ہے ؟ ۔جہاں تک ایم کیو ایم کے مطالبات کا تعلق ہے تو وہ کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں کے مسائل ،ان کیلئے ترقیاتی فنڈ، بلدیاتی سسٹم، انکے اختیارات اور شہری انفراسٹرکچرکے حوالہ سے ہیں۔ اسکے علاوہ ایم کیو ایم وفاق اور صوبہ میں اپنے حصوں کی نمائندگی اور بعض تقرریوں پر تحفظات رکھتی ہے۔

حکومت تحفظات پر متعدد بار ان سے مشاورت کر چکی ہے اور مطالبات مکمل طور پرتسلیم نہیں ہوئے اور اس میں زیادہ تر کا تعلق وفاق کی بجائے صوبہ سے ہے اور صوبہ میں پیپلز پارٹی کی حکومت اس حوالے سے سنجیدگی ظاہر نہیں کرتی لیکن معاہدہ چونکہ وفاق کے ساتھ تھا لہذا جوابدہ وہی ہے ۔ ایم کیو ایم کی جہاں تک دھمکی کا سوال ہے تو حکومت کوشش کرے گی کہ بیٹھ کر مسائل کا حل یقینی بنائے اور اسے اپنے ساتھ چلائے ۔حکومت بھی حکومت سے الگ ہونے کے فائدے اور نقصا نات کا جائزہ لے گی اسلئے کہ حکومت اور ایم کیو ایم ایک دوسرے کونظر انداز کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔

ماہرین ایسی دھمکیوں کو بارگیننگ کا حصہ قرار دیکر اسے بحرانی کیفیت پیدا کرنے کا سلسلہ قرار دیتے ہیں، انکے نزدیک ایم کیو ایم جیسی جماعت کی دھمکیوں کی ایک وجہ حکومتوں کیلئے مشکل پیدا کرنا ہوتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ عمل بھی کسی خاص اشارے کی وجہ سے ہوتاہے ،مگر اس وقت ایم کیو ایم اس پوزیشن میں نہیں کہ اپنی 22 نشستیں کھینچ لے اور حکومت گر جائے ، حکومت کی کوشش ہو گی کہ ایم کیو ایم سے اتحاد برقرار رہے، البتہ یہ چانس نہیں کہ ایم کیو ایم حکومت چھوڑے لیکن اگر ایسا کرتی بھی ہے تو حکومت گرے گی تو نہیں مگر اس پر سیاسی دباؤ ضرور آئے گا اور ویسے بھی ابھی اسلام آباد میں ایسے حالات نہیں کہ حکومت کو کوئی خطرہ ہو اور اتحادی نظریں بدلنے لگیں۔

وزیراعظم شہبازشریف بارے کہا جاتا ہے کہ وہ جماعتوں کو ساتھ لیکر چلنے کا فن بھی جانتے ہیں اور جماعتیں جن اشاروں پر حکومتوں کو ڈراتی ہیں ابھی حکومت کیلئے ادھر بھی حالات پریشان کن نہیں ۔جہاں تک ایم کیو ایم کی جانب سے اپنے گورنر کی نامزدگی کا سوال ہے تو یہ شاید کسی معاہدہ کا حصہ نہیں لہذا زیادہ امکان یہی ہے کہ وفاقی حکومت ایم کیو ایم کے کچھ مطالبات پر پیشرفت کرے گی ۔اسلام آباد سے دستیاب معلومات کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ ایم کیو ایم کا حکومت چھوڑنے کا اعلان محض دھمکی ہے البتہ وہ خود سندھ کے شہری علاقوں سے اپنے اوپرآنے والے دباؤ کو آگے حکومت پر شفٹ کر رہی ہے ۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ پہلے مذاکرات ،سیاسی یقین دہانیوں اور ممکنہ رعایتوں کے ذریعے مسائل حل کی کوشش کرے گی جس پروزیراعظم بھی تیار ہونگے اور آئندہ ہفتے ایم کیو ایم کا وفد حکومت کا مہمان بنتا نظر آ سکتا ہے ۔اتحادیوں کے تحفظات پر حکومت کو اتحادیوں کو بلانا اور بٹھانا ہو گا، مسائل اسی طرح حل ہوسکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں