گورنر پختونخوا کے اختیارات میں مزید کمی، صوبائی اسمبلی سے پبلک سروس کمیشن ترمیمی بلز منظور
پبلک سروس کمیشن کا تقرر وزیراعلیٰ کے مشورہ سے ہوگا، انتظامی امور میں گورنر، وزیراعلیٰ کے مشورے پر عمل کرینگے ، لفظ گورنر کی جگہ حکومت استعمال لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل منظور ،5 سال میں وفاق نے صوبے کو این ایف سی کے 31کھرب 14 ارب ، وار آن ٹیرر کی مد میں 3 کھرب 74 ارب د یئے
پشاور(دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک ) خیبرپختونخوا اسمبلی نے گورنر کے اختیارات میں مزید کمی کا بل منظور کرلیا۔ خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن آرڈیننس 1978ء میں ترمیمی بل کے پی اسمبلی سے منظور ہوا ہے جسے آئین کے آرٹیکل( 242 1B)، آرٹیکل 105 اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کی روشنی میں پیش کیا گیا۔بل کی منظوری کے بعد اب چیئرمین پبلک سروس کمیشن کا تقرر گورنر، وزیراعلیٰ کے مشورے پر کریں گے ، انتظامی امور میں گورنر، وزیراعلیٰ یا کابینہ کے مشورے کے مطابق عمل کریں گے اس حوالے سے آرڈیننس 1978ء کی دفعات 3، 4، 6، 7، 8 اور 9 میں ترامیم منظور کر لی گئیں۔
بل کے متن کے مطابق متعلقہ دفعات میں جہاں مناسب ہو لفظ ‘‘گورنر’’ کی جگہ ‘‘حکومت’’ استعمال کیا جائے گا، چیئرمین کی تقرری سے متعلق آئین کے تحت گورنر کا کردار برقرار رکھا جائے گا، پبلک سروس کمیشن کے قانونی و انتظامی ڈھانچے کو آئینی تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے گا، انتظامی اختیارات سے متعلق ابہام کا خاتمہ کیا جائے گا، مجوزہ ترامیم سے شفافیت، میرٹ اور بہتر طرزِ حکمرانی کو فروغ ملے گا۔ حکومتی رکن داؤد شاہ نے لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2026 پیش کیا جسے بحث کے بعد ایوان نے منظور کر لیا۔ علاوہ ازیں گزشتہ پانچ سال میں خیبرپختونخوا کو وفاق سے کتنے فنڈز ملے ؟ اعداد و شمار کے پی اسمبلی میں پیش کردئیے گئے ۔
دستاویز کے مطابق گزشتہ پانچ سال میں خیبرپختونخوا کو وفاق سے 34 کھرب 88 ارب 67 کروڑ 50 لاکھ روپے ملے ، گزشتہ پانچ سال کے دوران وفاق نے این ایف سی کی مد میں صوبے کو 31 کھرب 14 ارب 45 کروڑ روپے اور وار آن ٹیرر کی مد میں 3 کھرب 74 ارب 22 کروڑ 40 لاکھ روپے فراہم کیے ۔دستاویز میں بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا کو وفاق سے سب سے زیادہ فنڈز مالی سال 2024-25 میں ملے ، مالی سال 2024-25 میں صوبے کو وفاق سے 10 کھرب 46 ارب 87 کروڑ 50 لاکھ روپے ملے ، گزشتہ مالی سال وفاق نے وار آن ٹیرر کی مد میں صوبے کو 1 کھرب 12 ارب 22 کروڑ 96 لاکھ روپے دیے ۔
ایم پی اے احمد کریم کنڈی نے صوبے کو دی گئی رقم کے اعداد و شمار میں تضاد کا نکتہ اٹھایا اور کہا کہ جو اعدادوشمار وائٹ پیپر میں آئے ہیں ان میں 60 ارب کا تضاد آرہا ہے ، ہمیں بتایا جائے کہ یا یہ وائٹ پیپر جھوٹا ہے یا یہ بجٹ۔صوبائی وزیر خزانہ آفتاب عالم نے کہا کہ سوال سے متعلق جوابات مکمل دئیے گئے ہیں جو پیسے ملے ہیں اور جو ہمارا حق بنتا ہے ان میں تضاد مختلف وجوہات کی وجہ سے ہے ، تمام تفصیلات صوبائی اور وفاقی سطح پر دونوں کی جانب سے دی گئی ہیں۔سوال پر مزید سفارشات کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔