بلوچستان میں ڈائیلاگ، احساس محرومی کا خاتمہ ضروری

بلوچستان میں ڈائیلاگ، احساس محرومی کا خاتمہ ضروری

بھارت مذموم ایجنڈے پر گامزن ،سیاسی قوتوں نے ذمہ داری کا احساس نہ کیا

(تجزیہ:سلمان غنی)

امریکا ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکراتی عمل میں پاکستان کے کردار کی عالمی پذیرائی پاکستان کے دشمن کو ہضم نہیں ہو رہی اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کو اندرونی محاذ پر غیر مستحکم نہ کیا گیا تو پاکستان کو بھارت کے مقابلہ میں علاقائی محاذ پر اپنی اہمیت و حیثیت پر پہنچنے سے نہیں روکا جا سکے گا لہٰذا وہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے روایتی سلسلہ کے رجحان پر کاربند ہے جس کا ایک مظاہرہ زیارت کی پولیس چوکی پر حملہ اور اس کے نتیجہ میں پولیس جوانوں کی شہادت ہے ،لہٰذا اس امر کا جائزہ ضروری ہے کہ دہشت گردی کے اس عمل کے مقاصد کیا ہیں ؟ بلوچستان دشمن کا ٹارگٹ کیوں ہے ؟ جہاں تک دہشت گردی کا سوال ہے تو اس حوالہ سے کچھ بھی ڈھکا چھپا نہیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے بھارت اپنے مذموم ایجنڈا پر گامزن  ہے ،جہاں تک بلوچستان کو ٹارگٹ کرنے کا سوال ہے تو بلوچستان پاکستان کا معاشی مستقبل ہے ،گوادر کی بندرگاہ سی پیک کے منصوبے اس کا بڑا ثبوت ہے ، بلوچستان کے معدنی وسائل پر دشمن کی نظر ہے ، دشمن بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے یہاں دہشت گردی کا مذموم عمل جاری رکھے ہوئے ہے بلاشبہ سکیورٹی ادارے یہاں امن کے قیام کے لئے دن رات سرگرم ہیں لیکن کیا صرف دہشت گردی کا خاتمہ سکیورٹی فورسز کی ذمہ داری ہے۔

اس رجحان سے نمٹنے کے لئے سیاسی اقدامات کون کرے گا،بلوچستان میں ایک منظم منصوبہ کے تحت احساس کمتری پیدا کیا گیا ،نو جوان نسل کو ریاست سے مایوس کرنے کے لئے ایک منظم مہم چلائی گئی،ہماری منتخب حکومتوں اور سیاسی قوتوں نے ذمہ داری کا احساس نہیں کیا اور دشمن نے اس کا فائدہ اٹھایا، سکیورٹی اقدامات کے ساتھ اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے سیاسی ڈائیلاگ بہتر طرز حکمرانی ہے ، شکایات کے ازالہ کے ساتھ نوجوانوں میں احساس محرومی کا خاتمہ بھی ضروری ہے ،اگر بلوچستان کی حکومتوں نے یہاں گورننس اور سیاسی مسائل کے حل کے ضمن میں بروقت کام کیا ہوتا ،عوام میں احساس محرومی کے خاتمہ کے لئے اقدامات کئے ہوتے تو یہاں بددلی نہ پھیلتی،ماہرین کا اتفاق رائے ہے کہ جب تک سکیورٹی اقدامات کے ساتھ سیاسی عمل اور معاشی ترقی یکجا نہیں ہوتے دہشت گردی کے خطرے کو مستقبل بنیاد پر ختم کرنا ممکن نہیں اور مربوط حکمت عملی صرف حملوں کا جواب دینا نہیں بلکہ ایسے حالات پیدا کرنا ہے جن میں دہشت گردگروپوں کے لئے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنا زیادہ مشکل ہو جائے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں