سعودیہ سے 5 ارب ڈالر ڈیپازٹ سرمایہ کاری میں بدلنے ، ادھار تیل کی مدت بڑھانے پر مذاکرات
ڈیپازٹ کی رول اوورمدت 2028تک کرنے کا فیصلہ ہوچکا،سرمایہ کاری کیلئے دونوں ملکوں کے حکام میں بات چیت جاری مؤخر ادائیگیوں پر تیل سہولت مدت دو سال کرنے کی درخواست،2035تک برآمدات 100ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف
اسلام آباد (مدثر علی رانا)باوثوق ذرائع وزیراعظم آفس سے معلوم ہوا ہے کہ معاشی ٹیم اور سعودی حکام کے درمیان انتہائی اہم مذاکرات ہو رہے ہیں جہاں سعودی عرب کی جانب سے 5 ارب ڈالر کے ڈیپازٹ کو سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے ۔اس کے علاوہ سعودی عرب سے مؤخر ادائیگیوں پر ادھار تیل کی سہولت کے لیے بھی پاکستان کی درخواست سعودی عرب کے پاس ہے جس میں مؤخر ادائیگیوں پر تیل حاصل کرنے کے لیے کریڈٹ ٹائم ایک سال سے بڑھا کر کم از کم دو سال کرنے کی درخواست کی گئی ہے ۔گزشتہ سال طے شدہ مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت کا معاہدہ مکمل ہو چکا ہے ۔ حکومت کی درخواست پر معاشی ٹیم اور سعودی حکام کے درمیان دوبارہ بات چیت جاری ہے ۔ سعودی عرب سے درخواست کی گئی ہے کہ مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت دوبارہ شروع کی جائے تاکہ بیلنس آف پیمنٹ پر دباؤ نہ بڑھے اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ادائیگیوں کا دورانیہ بھی بڑھایا جائے ۔پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے مختلف منصوبوں پر سعودی سرمایہ کاروں کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے۔
سعودی عرب کے 5 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس پاکستان کے پاس موجود ہیں۔ ڈیپازٹ کی رول اوور مدت بڑھا کر 2028 تک کرنے کا فیصلہ پہلے ہی سعودی عرب کے ساتھ حتمی ہو چکا ہے ۔ اب حکومت کی کوشش ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے اس ڈیپازٹ کو سرمایہ کاری میں تبدیل کیا جائے ۔باؤثوق ذرائع کے مطابق سرمایہ کاری کے حوالے سے سعودی عرب میں مذاکرات کرنے والے وفد کی اہم ملاقاتوں کے دوران سعودی حکام کی جانب سے ڈھانچہ جاتی اصلاحات، پائیدار اقتصادی ترقی اور استحکام کو یقینی بنانے پر زور دیا جا رہا ہے ، جبکہ سرمایہ کاری کے لیے مختلف تجاویز بھی زیر غور ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ سعودی حکام کی جانب سے بیلنس آف پیمنٹ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے جو منصوبہ پیش کیا گیا ہے
۔ اس پر عمل درآمد سے 2035 تک بیلنس آف پیمنٹ کے دباؤ پر قابو پایا جا سکتا ہے جس کے تحت برآمدات کو بڑھا کر تقریباً 100 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے ۔حکومت نے سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے لیے مسلسل اقتصادی تعاون کو سراہا ہے ۔ سعودی عرب کی جانب سے ادارہ جاتی اصلاحات کے نفاذ میں حکومت پاکستان کی کوششوں کی بھی تعریف کی گئی جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع کے وسیع امکانات کا اعتراف کیا گیا۔ذرائع نے دنیا نیوز کے نمائندے کو بتایا کہ اگر سعودی عرب کی جانب سے ادھار تیل کی سہولت دوبارہ شروع ہو جاتی ہے تو رواں مالی سال 2026-27 کے دوران سعودی عرب سے پاکستان کو مزید 1.2 ارب ڈالر حاصل ہوں گے۔