قائمہ کمیٹی تخفیفِ غربت کاBISPکے ادائیگی نظام پر عدم اطمینان
کمیٹی کی مؤثر مانیٹرنگ کا نظام وضع، بینکوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت تمام اکاؤنٹس کی ڈیجیٹلائزیشن، آن لائن فعالیت 31دسمبر تک مکمل کرلینگے ،سٹیٹ بینک
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ نے بی آئی ایس پی کے سوشل پروٹیکشن ڈیجیٹل والٹ کے نفاذ، مستحق خاندانوں کے اکاؤنٹس کی باہمی فعالیت اور شریک بینکوں کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بی آئی ایس پی کو مؤثر مانیٹرنگ کا نظام وضع کرنے اور بینکوں کو مستحقین کے لیے بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ۔ کمیٹی نے سٹیٹ بینک اور تمام شریک بینکوں کو ہدایت کی وہ ڈیجیٹل نظام مقررہ مدت میں مکمل کریں۔
کمیٹی کا اجلاس چیئرمین میر غلام علی تالپور کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ سٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر نے بتایا بی آئی ایس پی کے تمام اکاؤنٹس کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن اور لازمی آن لائن فعالیت 31 دسمبر 2026 تک مکمل کر لی جائے گی۔کمیٹی نے سیکرٹری بی آئی ایس پی کو ہدایت کی کہ وہ مؤثر نظام وضع کریں ، بینکوں کو مناسب تعداد میں پوائنٹ آف سیل ایجنٹس تعینات کرنے اور مستحقین کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کا پابند بنا ئیں ۔ سیکرٹری بی آئی ایس پی نے یقین دہانی کرائی کہ بینکوں کی ضلع وار کارکردگی رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائے گی۔ ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک نے بتایا کہ ٹرانزیکشن لاگت 280 روپے مقرر کی گئی ہے اور چھ ماہ بعد سٹیٹ بینک فیس کا نیا شیڈول جاری کرے گا۔ کمیٹی نے بی آئی ایس پی کو ہدایت کی کہ میڈیا آگاہی مہم کی تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے ۔