سپریم کورٹ:11سال سے زیرالتواقتل کیسزنمٹادیئے گئے
سزائے موت کے خلاف 608اپیلوں پرفیصلے ،صرف 22کیسززیرالتوا 4459ضمانت،1065خاندانیاور506ٹیکس کیسزکے فیصلے کیے گئے :اعلامیہ
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ نومبر 2024 میں شروع کیے گئے جوڈیشل ریفارم ایکشن پلان کے نتیجے میں زیر التوا مقدمات میں نمایاں کمی آئی ہے ،شخصی آزادی، خاندانی تنازعات، ٹیکس اور کرایہ داری سے متعلق مقدمات کے فیصلوں کی رفتار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ پریس ریلیز کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور زیر التوا مقدمات ترجیحاً نمٹانے کی حکمت عملی سے زیر سماعت مقدمات کی مجموعی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی۔ شخصی آزادی سے متعلق فوجداری مقدمات میں سب سے زیادہ پیش رفت ہوئی۔ سزائے موت کے خلاف اپیلوں میں 608 مقدمات نمٹانے سے سماعت کا سلسلہ 2015 کے مقدمات سے آگے بڑھ کر 2026 کے مقدمات تک پہنچ گیا ہے ، 2026 کے صرف 22 مقدمات زیر التوا ہیں۔
قبل از گرفتاری ضمانت کی 2,156 درخواستیں نمٹانے کے بعد عدالت 2020 کے مقدمات سے آگے بڑھ کر 2026 کے مقدمات کی سماعت کر رہی ہے ، بعد از گرفتاری ضمانت کی 2,303 درخواستوں کے فیصلوں کے بعد 2009 کے مقدمات سے پیش رفت کرتے ہوئے 2026 کے مقدمات تک پہنچ گئی اوراس نوعیت کے صرف 66 مقدمات زیر التوا رہ گئے ہیں۔عدالت نے 1,065 خاندانی مقدمات کا فیصلہ کیا جس کے بعد 2026 میں دائر مقدمات کی سماعت شروع کر دی گئی ہے ۔ ٹیکس مقدمات میں مؤثر کیس مینجمنٹ کے ذریعے 506 مقدمات نمٹائے گئے جس کے بعد عدالت 2011 کے مقدمات سے آگے بڑھ کر 2019 میں دائر مقدمات کی سماعت تک پہنچ گئی ہے ۔ عدالت کرایہ داری سے متعلق 2011 کے مقدمات سے آگے بڑھ کر 2026 میں دائر مقدمات کی سماعت تک پہنچ چکی ہے ، ایسے صرف 46 مقدمات زیر التوا ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جوڈیشل ریفارم ایکشن پلان پر عملدرآمد جاری رکھا جائے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments