آزاد کشمیر، بلوچستان، پختونخوا کے مسائل کا سیاسی حل نکالا جائے : جماعت اسلامی
آئینی اور عدالتی بحران کی بنیادی وجہ آئین اور جمہوری اصولوں سے انحراف 26ویں اور 27ویں ترامیم واپس لیکر آئین بحال کیا جائے :مجلس شوریٰ کی قراردادیں
لاہور (سٹاف رپورٹر،سیاسی نمائندہ ) جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ نے ملک کی مجموعی سیاسی، آئینی، معاشی اور امن و امان کی صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعدد قراردادیں منظور کر لیں۔ قراردادوں میں آئین و قانون کی بالادستی، شفاف انتخابات، قومی سیاسی مکالمے ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے مسائل کے سیاسی حل، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے نئی حکمت عملی، پاک۔افغان تعلقات میں بہتری اور آزاد جموں و کشمیر کے بحران کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا گیا۔سیاسی قرارداد میں کہا گیا کہ ملک کو درپیش سیاسی، اقتصادی، آئینی اور عدالتی بحران کی بنیادی وجہ آئین اور جمہوری اصولوں سے انحراف ہے۔
قرارداد کے مطابق 2024ء کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور عوامی مینڈیٹ کی خلاف ورزی کے نتیجے میں قائم ہونے والا ہائبرڈ نظام ناکام ہو چکا ہے ، جس سے حکومتی اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد بری طرح متاثر ہوا ہے ۔شوریٰ نے مطالبہ کیا کہ آئین میں کی گئی 26ویں اور 27ویں ترامیم واپس لے کر متفقہ آئینی ڈھانچہ بحال کیا جائے ، عدلیہ کو آزاد اور بااختیار بنایا جائے اور ملک میں شفاف، غیر جانبدار اور متناسب نمائندگی پر مبنی انتخابی نظام نافذ کیا جائے ۔قرارداد میں کہا گیا کہ بلوچستان میں بدامنی، جبری گمشدگیوں، سیاسی بے اعتمادی، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور عوامی محرومیوں نے صورتِ حال کو انتہائی تشویشناک بنا دیا ہے ۔
شوریٰ نے واضح کیا کہ فوجی آپریشن مسائل کا حل نہیں، بلکہ بلوچستان کے بحران کا مستقل حل عوامی اعتماد کی بحالی، سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی اور وفاقی حکومت کی میزبانی میں تمام سٹیک ہولڈرز پر مشتمل قومی کانفرنس کے انعقاد میں ہے ۔ جماعت اسلامی نے بلوچستان کے مسئلے پر قومی سطح کی کانفرنس منعقد کرنے کا بھی اعلان کیا۔قرارداد میں قومی ایکشن پلان پر ازسرِ نو قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے ، عوامی اعتماد بحال کرنے اور وفاق و صوبوں کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔
مرکزی مجلس شوریٰ نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی، آبی دباؤ اور مبینہ پراکسی جنگ کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح پر مو ثر سفارتی اقدامات کیے جائیں۔آزاد جموں و کشمیر کی صورتِ حال پر شوریٰ نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے تناظر میں کہا کہ ریاستی طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے بحران حل کیا جائے ، قرارداد میں بروقت، آزادانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد پر بھی زور دیا گیا جبکہ کہا گیا کہ عوام کی پرامن جدوجہد ان کا بنیادی حق ہے ، تاہم ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جن سے تحریکِ آزادی کشمیر کو نقصان پہنچے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments