پٹرول کی یومیہ قیمتوں پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے خدشات، جائز تحفظات دور کیے جائینگے : وزیر پٹرولیم
تیل قیمتوں کے روزانہ تعین کا نظام نافذ کرنے کیلئے خصوصی کمیٹی قائم ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین شفاف فارمولے اور مارکیٹ کی حقیقی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائیگا اجلاس میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے خدشات اورتجاویز پیش کیں ، نئے نظام سے قیمتوں میں کمی یا اضافہ فوری صارفین تک منتقل ہو سکے گا:علی پرویز، ’’بات نکلے گی‘‘ میں گفتگو
اسلام آباد،لاہور(اے پی پی ،دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک)پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کا نظام نافذ کرنے کیلئے خصوصی کمیٹی قائم کر دی گئی ، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پٹرول کی یومیہ قیمتوں پر اپنے خدشات پیش کیے جس پر وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ متعلقہ فریقین کے تمام جائز تحفظات مشاور ت سے دور کرینگے ، تمام عملی مسائل اتفاقِ رائے سے حل کیے جائیں گے ، قیمتوں کا تعین مارکیٹ کی حقیقی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ تعین کا نظا م نافذ کرنے کیلئے وفاقی وزیر پٹرولیم کا انڈسٹری شراکت داروں سے مشاورتی اجلاس ہوا جس میں اوگرا، آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل، او ایم سیز ، ریفائنریز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ نئے نظام کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین شفاف فارمولے کے تحت ہوگا، قیمتوں کا تعین مارکیٹ کی حقیقی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا، ناجائز منافع خوری،استحصال اور غیر معمولی مالی فوائد کی گنجائش کم کر رہے ہیں، مقصد عوام کو سیاسی مصلحتوں کے باعث قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے محفوظ رکھنا ہے، یہ اصلاحات حکومت کی مرحلہ وار ڈی ریگولیشن حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ اصلاحات کے ذریعے قیمتوں میں بتدریج حکومتی مداخلت میں کمی لانے کیلئے کوشاں ہیں۔ اوگرا، او سی اے سی، اومیپ، ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے نئے نظام پر تجاویز پیش کیں۔ علی پرویز نے کہا کہ صنعت اوراوگرا سے مشاورت کیساتھ روزانہ قیمتوں کے نفاذ کیلئے ایس او پیزبنا رہے ہیں، حکومت نے صنعتی نمائندوں کو یقین دلایا کہ تمام انتظامی اور تکنیکی مسائل کے حل کے لیے مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔
اس مقصد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے جو منتقلی کے عمل کی نگرانی اور باہمی اتفاق رائے سے مسائل کے حل کو یقینی بنائے گی ۔تمام مسائل اتفاقِ رائے سے حل کیے جائیں گے ۔ اجلاس کے دوران او سی اے سی، او میپ، ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے نمائندوں نے یومیہ قیمتوں کے نظام سے متعلق بعض عملی خدشات اور تجاویز پیش کیں۔ وفاقی وزیر نے یقین دلایا کہ تمام جائز تحفظات کو مسلسل مشاورت اور تعاون کے ذریعے دور کیا جائے گا۔اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر نے پٹرولیم ڈویژن اور اوگرا کو ہدایت کی کہ صنعتی نمائندوں کے ساتھ مزید مشاورتی اجلاس منعقد کیے جائیں تاکہ تکنیکی فارمولے کو مزید بہتر بنایا جا سکے باقی ماندہ مسائل کا حل نکالا جائے اور یومیہ پٹرولیم قیمتوں کے نظام کا کامیاب نفاذ یقینی بنایا جا سکے۔
علاوہ ازیں دنیا نیوزکے پروگرام ‘ بات نکلے گی’میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ تبدیلی جب بھی آتی ہے خصوصاً ایسے نظام میں جب کوئی طریقہ سالہا سال سے چل رہا ہو تو اس میں چھوٹی موٹی تکلیف تو ضرور آتی ہے ، اس کی وجہ سے ہمارے شعبے کے جو شراکت دار ہیں یقیناً ان کے کچھ خدشات ہوں گے جب ان کو تفصیل معلوم ہو گی مجھے پورا یقین ہے کہ پاکستان کے مفادات کے لیے جو ہمارا عام صارف ہے ، اس کے مفاد کے اندر وہ اپنے تحفظات دور کر لیں گے ۔ اس کے لیے ہم نے اقدامات کیے ہیں، میں نے ان کی ابھی بھی سب سے بڑی ایسوسی ایشن، جو او سی اے سی ہے اور او ایم اے پی کے ساتھ دو گھنٹے کی میٹنگ کی ہے ، شاید ان کو سمجھ نہ آنے کی وجہ سے یہ خدشات والی خبریں آ رہی ہیں، تبدیلی اچھی ہو تب بھی اس کے چیلنجز اپنی جگہ ہوتے ہیں، بری ہو تو آپس میں مشاورت کے ساتھ اس کی اصلاح کر لینی چاہیے ۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ اب ہو کیا رہا ہے ، لوگوں کا خیال ہے کہ روز نئی قیمت عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ متعین کی جائے گی، اس کے اندر جو کنسپٹ ہے جس کو حکومت آگے لے کر چل رہی ہے ، سات دن کا جو پلیٹس کا ایوریج ہو گا وہ رولنگ بیسز کے اوپر، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر دن پچھلا ایک دن اس ایوریج نکالنے سے نکل جائے گا، ایک نیا دن اس کے اندر ایڈ ہو جائے گا جس کی وجہ سے ڈائنامک پرائس آگے چلتی رہے گی، یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی دن 50 روپے اضافہ ہو گیا، کسی دن 50 روپے کی کمی آ گئی۔ماضی میں قیمتوں میں وقفے وقفے سے ردوبدل ہونے کی وجہ سے بعض مقامات پر مصنوعی قلت، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری جیسے مسائل سامنے آتے تھے تاہم نئے نظام سے قیمتوں میں کمی یا اضافہ فوری طور پر صارفین تک منتقل ہو سکے گا۔
حکومت نے پٹرولیم سیکٹر میں اصلاحات کے تحت اوگرا کو روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کا اختیار دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ حکومت ابھی مکمل ڈی ریگولیشن کی طرف نہیں گئی بلکہ یہ اس سمت میں پہلا قدم ہے ، تاہم حکومت پاکستان اور ریاست کے مفاد میں بہترین فیصلے کرے گی۔ اوگرا ڈی ریگولیشن سے متعلق معاملات کی نگرانی کرے گی، جس سے قیمتوں کے تعین کا عمل مزید شفاف ہو گا۔ کابینہ نے تمام پہلوؤں پر غور کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے ، اگر کوئی ذخیرہ اندوزی میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments