دہشتگردی کے خاتمے کیلئے سیاسی قیادت کو سرجوڑنا ہوگا
بلوچ لیڈرشپ اپنا سیاسی کردار ادا کریگی تو بلوچستان کے مسائل حل ہونگے
(تجزیہ:سلمان غنی)
بلوچستان میں دہشت گردوں کی جانب سے سکیورٹی فورسز کے بعد اب سویلینز پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے ، جس کا مقصد یہاں خوف و ہراس پھیلانا اور عوام میں مایوسی پیدا کرنا لگتا ہے ۔ گزشتہ روز سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گارڈ کا قتل دراصل عدالتی نظام اور ریاست کی بنیادوں کو نشانہ بنانے کی ایک منصوبہ بند کوشش ہے ، جسے دہشت گردوں کی ایک نئی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب دہشت گرد ہماری سکیورٹی فورسز اور ان کی حکمت عملی سے خوفزدہ ہیں اور اب وہ سویلینز، خصوصاً اہم افراد کو سافٹ ٹارگٹ سمجھ کر نشانہ بنا رہے ہیں۔جو اس امر کا ثبوت ہے کہ دشمن پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے درپے ہے ،بلوچستان اسے اس لیے بھی ہضم نہیں ہو رہا کہ بلوچستان پاکستان کا معاشی مستقبل ہے اور یہاں گوادر کی بندرگاہ، سی پیک کے منصوبے اور اربوں، کھربوں کی معدنیات پاکستان کی معیشت کی مضبوطی میں اہمیت کی حامل ہیں، اور یہی منصوبے بلوچستان کی ترقی اور بلوچ عوام کی خوشحالی کے ضامن ہیں۔ بلوچ عوام کو متنفر کرنے کے لیے بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کی پیٹھ ٹھونکی جا رہی ہے ، انہیں اسلحہ اور فنڈنگ فراہم کی جا رہی ہے۔
سیشن جج کو ٹارگٹ کرنے کا عمل دراصل عدلیہ کو خوفزدہ کرنا ہے تاکہ کوئی جج دہشت گردوں کے خلاف کسی فیصلے کی جرات نہ کرے ۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان بار کونسل نے اسے انصاف کے نظام پر حملہ قرار دیا ہے ۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس عمل کو ریاست پر حملہ تو قرار دیا ہے مگر اس حملے کا توڑ کیا ہو گا؟ یہ ذمہ داری بلوچستان حکومت پر ہے ، یہ اس کی اپنی رٹ کا سوال ہے ۔ حکومتیں صرف حکمرانی کا نام نہیں، یہ جوابدہی کا عمل بھی ہے ۔ فوج اور سکیورٹی ادارے تو قربانیوں کی تاریخ رقم کرتے نظر آ رہے ہیں مگر صوبائی حکومت اس حوالے سے کہاں کھڑی ہے ؟ بلوچ قیادت کو اپنے صوبے میں دہشت گردی کے خلاف آگے آنا ہو گا، خاموشی کو توڑنا ہو گا، سیاسی قیادت سر جوڑے گی تو مسئلے کی جڑ کو پکڑا جائے گا۔اسلام آباد اور راولپنڈی کی سنجیدگی تب نتیجہ خیز ہو گی جب بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے بلوچ لیڈرشپ اپنا سیاسی کردار ادا کرے گی۔ عوام پیچھے کھڑے ہوں گے تو سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچائیں گی۔ دس مئی کو بھارت کے خلاف فتحِ مبین اس لیے ملی تھی کہ فوج کے پیچھے قوم کھڑی تھی، تو دشمن کو دن میں تارے دکھائے تھے ۔ اب بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جیت قوم کے فوج کے پیچھے کھڑی ہونے سے مشروط ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments