متروکہ سندھ نیا صوبہ بنے گا، دستبردار نہیں ہونگے :ایم کیو ایم

متروکہ سندھ نیا صوبہ بنے گا، دستبردار نہیں ہونگے :ایم کیو ایم

پیپلزپارٹی نے سندھ کولسانی بنیاد پرتقسیم کیا، خالد مقبول، ریلی سے خطاب تمام آئینی راستے آزما لیے ، اب قوم کا مقدمہ سڑکوں پر لڑیں گے :مصطفیٰ کمال

حیدرآباد، کراچی (بیورو رپورٹ، مانیٹرنگ ڈیسک)متحدہ قومی موومنٹ کے چیئرمین و وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم نئے صوبے کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوگی، متروکہ سندھ اور تبادلہ اراضی کی بنیاد پر نیا صوبہ قائم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی اصل تقسیم پیپلز پارٹی نے لسانی بنیادوں پر کی۔حیدرآباد میں پیپلز پارٹی حکومت کی مبینہ بدانتظامی اور کرپشن کے خلاف ایم کیو ایم کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول نے کہا کہ ایم کیو ایم تمام قومیتوں کے مساوی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ میں شفاف مردم شماری کرائی جائے کیونکہ درست گنتی شہریوں کا بنیادی حق  ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے بجٹ کا زیادہ تر حصہ کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص اور نواب شاہ جیسے شہری علاقوں سے حاصل ہونے والی آمدن پر مشتمل ہے ، مگر وسائل کی منصفانہ تقسیم نہیں کی جا رہی۔ ان کے بقول کراچی اور حیدرآباد کی ترقی سے پورے پاکستان کی معیشت مستحکم ہوتی ہے ۔دوسری جانب کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت و ایم کیو ایم کے سینئر رہنما سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے ، اس لیے سندھ سمیت ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہے ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 18 برس میں سندھ حکومت کو ملنے والے 22 ہزار ارب روپے میں سے کراچی کو صرف 680 ارب روپے ملے ، حالانکہ زیادہ تر آمدن کراچی سے حاصل ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ماضی کا مالیاتی فارمولا برقرار رہتا تو کراچی کو دو ہزار ارب روپے اضافی مل سکتے تھے ، جس سے انفراسٹرکچر، صنعت، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں نمایاں بہتری آتی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایم کیو ایم نے پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم بھی پیش کی، مگر پیپلز پارٹی نے عددی اکثریت کے ذریعے اسے منظور نہیں ہونے دیا۔ اب تمام آئینی و جمہوری راستے اختیار کرنے کے بعد پارٹی عوامی حقوق کے لیے سڑکوں پر تحریک چلائے گی۔انہوں نے سندھ حکومت پر کراچی سے کشمور تک عوام کو پینے کے پانی، سیوریج، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم رکھنے کا الزام لگایا۔ خیرپور میں اغوا شدہ بچوں کی بازیابی کے لیے دھرنا دینے والی ماؤں پر پولیس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے فوری رہائی اور بچوں کی بازیابی کا مطالبہ بھی کیا۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایم کیو ایم کے لیے وزارتیں نہیں بلکہ عوام کے حقوق اور ملک کی سلامتی اہم ہے ، اسی لیے پارٹی نے خاموشی توڑ کر عوامی جدوجہد کا فیصلہ کیا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...