عوامی تحریکیں طاقت کے ذریعے نہیں دبائی جاسکتیں
کاکروچ جنتاپارٹی نے تحقیر آمیز انداز میں بولا لفظ مزاحمت کی علامت میں بدلا
(تجزیہ:سلمان غنی)
بھارت میں نوجوانوں کی پیپر لیکس کے خلاف چلنے والی تحریک بالآخر رنگ لے آئی۔ حکومت پر بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے نتیجے میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا، جسے حکومت نے قبول بھی کر لیا۔ یہ واقعہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس نے ثابت کیا کہ منظم عوامی دباؤ حکومتوں کو فیصلے بدلنے پر مجبور کر سکتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ آخر حکومت کیوں پسپا ہوئی اور طلبہ کی اس تحریک میں ایسی کیا بات تھی جس نے اقتدار کو جھکنے پر مجبور کر دیا؟یہ احتجاج اچانک نہیں بلکہ طویل عرصے سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا نتیجہ تھا۔ نوجوانوں کا مؤقف تھا کہ قابلیت کو نظرانداز کرکے مخصوص طبقات اور اشرافیہ کو نوازا جا رہا ہے ، جبکہ تعلیم جیسے حساس شعبے میں بھی بدعنوانی اور بے ضابطگیوں نے جگہ بنا لی ہے۔
پیپر لیکس کے مسلسل واقعات نے طلبہ میں شدید مایوسی پیدا کی اور احتجاج کا دائرہ درجنوں سے سینکڑوں، پھر ہزاروں افراد تک پھیلتے ہوئے پورے بھارت کی نوجوان نسل کی آواز بن گیا۔ابتدا میں حکومت نے ہمیشہ کی طرح طاقت کے ذریعے احتجاج روکنے کی کوشش کی، مگر تشدد اور ہلاکتوں نے تحریک کو مزید تقویت دی۔ جلد ہی وزیر تعلیم کے استعفے کے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی کے استعفے کے مطالبات بھی سنائی دینے لگے ، جس سے حکومت واضح دباؤ میں آ گئی۔ ایک مرحلے پر حکومت نے اس تحریک کی فنڈنگ کا الزام پاکستان پر بھی عائد کیا، مگر طلبہ نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ الزام تراشی سے ان کے مطالبات تبدیل نہیں ہوں گے اور وزیر تعلیم کو استعفیٰ دینا ہی ہوگا۔بھارت میں پیش آنے والا یہ منظر کچھ حد تک بنگلہ دیش کی طلبہ تحریک سے مشابہ تھا، جہاں سرکاری ملازمتوں میں امتیازی سلوک کے خلاف نوجوان سڑکوں پر نکلے تھے ۔
اس وقت حسینہ واجد کی حکومت نے بھی طاقت کا استعمال کیا، مگر احتجاج دبنے کے بجائے مزید مضبوط ہوا اور بالآخر حکومت کے خاتمے پر منتج ہوا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ حقیقی عوامی تحریکوں کو صرف طاقت کے ذریعے نہیں دبایا جا سکتا۔اس تحریک کی ایک دلچسپ جہت بھی سامنے آئی۔ چند ماہ قبل بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت نے احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو تحقیر آمیز انداز میں "کاکروچ" کہا تھا۔ طلبہ نے اسی لفظ کو اپنی شناخت بنا کر کاکروچ جنتا پارٹی قائم کی اور اسے مزاحمت کی علامت میں بدل دیا۔ جب حکومت نے تحریک کو سنجیدگی سے نہ لیا تو طلبہ نے جنتر منتر پر احتجاجی کیمپ لگا دیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے ابتدا میں اپنے وزیر تعلیم کا دفاع کیا اور صرف تحقیقات کی یقین دہانی کرائی، مگر طلبہ اپنے بنیادی مطالبے ، یعنی استعفے ، سے پیچھے نہ ہٹے ۔جب طلبہ نے اعلان کیا کہ اگر ہفتے تک وزیر تعلیم مستعفی نہ ہوئے تو احتجاج پورے ملک میں پھیلا دیا جائے گا، تو حکومت نے حالات کی سنگینی کو محسوس کیا اور خاموشی سے استعفیٰ منظور کر لیا۔
اس کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی نے اعلان کیا کہ وہ اتوار کو ملک بھر میں پرامن مشعل بردار مارچ کرے گی تاکہ اس کامیابی کو نوجوانوں کے عزم کی علامت بنایا جا سکے ۔ پارٹی کے صدر ابھیجیت نے کہا کہ یہ استعفیٰ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر عوام خوفزدہ نہ ہوں اور حکومت کے سامنے نہ جھکیں تو جمہوریت میں تبدیلی ممکن ہے ۔یہ تمام صورتحال حکومتوں کے لیے لمحئہ فکریہ ہے ۔ پاکستان میں بھی اس واقعے کے بعد یہ بحث جاری ہے کہ ایسا صرف بھارت میں ممکن ہے ، مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ بھی طلبہ اور عوامی تحریکوں سے بھری پڑی ہے ۔ ایوب خان کے خلاف تحریک طلبہ ہی نے شروع کی تھی، جبکہ مختلف ادوار میں عوامی احتجاج کئی منتخب حکومتوں کے خاتمے کا سبب بھی بنا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ایسی تحریک کہاں چل سکتی ہے ، بلکہ یہ ہے کہ حکومتیں عوام کے سلگتے ہوئے مسائل کو اس نہج تک پہنچنے ہی کیوں دیتی ہیں۔تاریخ کا سبق یہی ہے کہ جمہوریت میں اصل طاقت عوام کے پاس ہوتی ہے ۔ جب نوجوان اور عوام اپنے مطالبات پر متحد ہو جائیں تو طاقت، اختیار اور عارضی سہارے بھی بے معنی ہو جاتے ہیں۔ پائیدار اقتدار صرف اسی حکومت کو ملتا ہے جو عوام کے اعتماد، انصاف اور جوابدہی کو اپنی اولین ترجیح بنائے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments