ایف بی آر کی 5 ایکسپورٹر فسیلی ٹیشن کمیٹیاں قائم، ٹیکس تنازعات ختم ہونگے
اسلام آباد (نیوز رپورٹر) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے برآمدات میں اضافے ، برآمد کنندگان کے مسائل کے حل اور ٹیکس تنازعات کے خاتمے کے لیے پانچ ایکسپورٹر فسیلی ٹیشن کمیٹیاں قائم کر دی ہیں۔
ایف بی آر کے احکامات کے مطابق کمیٹیوں کا مقصد برآمد کنندگان اور ایف بی آر کے درمیان رابطے کو مؤثر بنانا، رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی کو فروغ دینا، غیر ضروری قانونی تنازعات کو کم کرنا اور ٹیکس نظام کو زیادہ شفاف بنانا ہے ۔10 ارب روپے سے زائد برآمدات والے معاملات سینٹرل کمیٹی میں زیر غور آئیں گے ۔احکامات کے مطابق کمیٹیاں برآمدی طریقہ کار، سرکاری امور اور فیلڈ فارمیشنز سے متعلق مسائل کا جائزہ لیں گی۔ ایسے مسائل کی نشاندہی کی جائے گی جو برآمدی سرگرمیوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ان مسائل و مشکلات کو کمیٹیوں کے ماہانہ اجلاسوں میں مشاورت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ایف بی آر کے مطابق اگر کسی برآمد کنندہ کے خلاف آڈٹ یا کسی قانونی کارروائی کی ضرورت پیش آئے تو متعلقہ معاملے کے بنیادی حقائق پہلے متعلقہ کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں گے ۔ کمیٹی غور کے بعد اکثریتی رائے سے کارروائی کا فیصلہ کرے گی تاہم فیصلے کے لیے کم از کم تین ارکان کی موجودگی ضروری ہوگی۔ اگر ووٹ برابر ہوں تو کمیٹی کا چیئرمین مختصر تحریری حکم کے ذریعے فیصلہ کرے گا جس کا ایف بی آر جائزہ لے سکے گا۔احکامات کے مطابق اس نظام کے تحت "برآمد کنندہ" سے مراد ایسا شخص یا ادارہ ہوگا جس کی ایک ٹیکس سال کے دوران کم از کم 80 فیصد کاروباری آمدن برآمدات سے حاصل ہوتی ہو۔ایف بی آر نے پانچ علاقائی کمیٹیاں تشکیل دی ہیں جن میں سینٹرل، کراچی، لاہور، فیصل آباد اور سیالکوٹ کمیٹیاں شامل ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments