7 اگست کو سڑکیں بند ہونگی، لاکھوں لوگ گھروں سے نکلیں گے : حافظ نعیم
نوجوان اپنی موٹر سائیکلوں پر نکلیں اور سڑکوں پر لاکر انہیں بند کردیں،صرف ایمبولینسز کو راستہ دیا جائیگا حکومت فوری طور پر پٹرولیم لیوی ختم ، آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی کرے :امیر جماعت اسلامی پاکستان
لاہور (این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک )امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم لیوی کیخلاف 7 اگست کے ملک گیر احتجاج اور سڑکیں بند کرنے کی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ 7 اگست کو اہم شاہراہوں پر سڑکیں بند کی جائیں گی، لاکھوں لوگ گھروں سے نکلیں گے ، نوجوان اپنی موٹر سائیکلوں پر نکلیں اور سڑکوں پر لاکر انہیں بند کردیں ، احتجاج کے دوران صرف ایمبولینسز کو راستہ فراہم کیا جائے گا، حکومت فوری طور پر پٹرولیم لیوی ختم ، آئی پی پیز کے مہنگے معاہدوں پر نظرثانی ، بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اور مہنگائی پر قابو پانے کیلئے مؤثر اقدامات کرے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں مختلف اجلاسوں، تنظیمی رابطوں اور آن لائن مشاورتی نشستوں کے دوران احتجاجی پروگرام کو کامیاب بنانے کیلئے جاری سرگرمیوں، عوامی آگاہی مہمات اور ضلعی سطح پر تیاریوں پر تفصیلی گفتگو کے دوران کیا۔
اس موقع پر حافظ نعیم الرحمن نے جماعت اسلامی کے ذمہ داران کو عوامی رابطہ مہم مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کرتے کہا کہ 7 اگست کا احتجاج عوام کے بنیادی حقوق کے حصول کیلئے ہے ، پٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکسوں، مہنگائی کی مجموعی صورتحال، ظالمانہ آئی پی پیز معاہدوں ، لوڈشیڈنگ اور غیر منصفانہ معاشی پالیسیوں کیخلاف لاکھوں افراد پرامن مظاہرے کریں گے ،7 اگست کا احتجاج تاریخی ہوگا اور حکمرانوں کو مجبور کیا جائے گا کہ عوام کو ریلیف دیں۔ امیرجماعت اسلامی نے حکومت کو خبردار کیا کہ جماعت اسلامی کی جمہوری جدوجہد میں کسی قسم کی رکاوٹیں کھڑی نہ کی جائیں،حکومت ریلیف دینے کے بجائے نئے ٹیکسوں اور مہنگی پٹرولیم مصنوعات کے ذریعے عوام پر بوجھ ڈال رہی ہے ۔ پٹرولیم لیوی ختم کئے بغیر معاشی مشکلات کا خاتمہ ممکن نہیں۔امیر جماعت اسلامی نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی کہ احتجاجی تحریک کو کامیاب بنانے کیلئے علما، تاجروں، وکلا، طلبہ، مزدوروں، سول سوسائٹی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے رابطے مزید بڑھائے جائیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments