رواں مالی سال 21.5 ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں کرنا ہونگی : گورنر سٹیٹ بینک
3.5 ارب ڈالر کاسود شامل،12 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس رول اوور کی توقع ، 3 ارب ڈالر ری فنانس کیے جائیں گے جولائی میں چین کے 1.4 ارب ڈالر کے کمرشل قرض کی مکمل ادائیگی کر دی ،تاہم اسکی ری فنانسنگ ابھی نہیں ہوئی
اسلام آباد (مدثر علی رانا) گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ رواں مالی سال 2026-27 کے دوران پاکستان کو 21.5 ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں کرنا ہوں گی۔ جولائی میں 2.2 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کی جا چکی ہیں جبکہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں رواں مالی سال بیرونی ادائیگیوں میں 5 ارب ڈالر کمی آئی ہے ۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک نے بتایا کہ سعودی عرب نے اپنے ڈیپازٹس کی مدت 2028 تک رول اوور کر دی ۔ ان کے مطابق جولائی میں 2.2 ارب ڈالر کی ادائیگیوں کے بعد آئندہ گیارہ ماہ کے دوران بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ نسبتاً کم رہے گا۔انہوں نے انکشاف کیا کہ رواں مالی سال قرضوں کی مد میں 21.5 ارب ڈالر واپس کرنے ہیں جن میں 3.5 ارب ڈالر سود کی ادائیگی شامل ہے ۔ پاکستان کو کویت کے 250 ملین ڈالر بھی واپس کرنے ہیں جو 1990ء کی دہائی سے مسلسل رول اوور ہوتے آ رہے ہیں اور ان پر سود بھی ادا کیا جا رہا ہے۔
گورنر سٹیٹ بینک نے بتایا کہ پاکستان نے جولائی 2026 میں چین کے 1.4 ارب ڈالر کے کمرشل قرض کی مکمل ادائیگی کر دی تاہم اس قرض کی ری فنانسنگ ابھی نہیں ہوئی اور توقع ہے کہ چینی بینک آئندہ چند ہفتوں میں یہ قرض دوبارہ فراہم کر دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ جولائی میں مجموعی طور پر 2.2 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے ادا کیے گئے جن میں 1.4 ارب ڈالر چینی کمرشل قرض اور 80 کروڑ ڈالر دیگر بیرونی واجبات شامل ہیں۔ان کے مطابق رواں مالی سال بیرونی قرضوں کی ادائیگی کا مجموعی بوجھ 21.5 ارب ڈالر ہے جو گزشتہ مالی سال کے 26.5 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے ۔ عالمی سطح پر شرح سود میں کمی سمیت مختلف عوامل کے باعث قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں بھی کمی آئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 21.5 ارب ڈالر کی مجموعی بیرونی ادائیگیوں میں تقریباً 12 ارب ڈالر ایسے ڈیپازٹس شامل ہیں جن کے رول اوور کی توقع ہے جبکہ 3 ارب ڈالر کے کمرشل قرضے ری فنانس کیے جائیں گے ۔ اس طرح حقیقی ادائیگیوں کا حجم تقریباً 7 ارب ڈالر بنتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک کے پاس موجود 12 ارب ڈالر کے بیرونی ڈیپازٹس میں 8 ارب ڈالر سعودی عرب اور 4 ارب ڈالر چین کے ہیں۔ ان ڈیپازٹس کے رول اوور کی ضرورت دسمبر 2026 اور مارچ 2027 میں پیش آئے گی، حکومت کو امید ہے کہ دوست ممالک ان کی مدت میں توسیع کریں گے ۔جمیل احمد نے بتایا کہ سٹیٹ بینک نے گزشتہ تین برسوں کے دوران انٹربینک مارکیٹ سے مجموعی طور پر 28 ارب ڈالر خریدے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کیے جا سکیں اور معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بفر تیار کیا جا سکے۔
صرف گزشتہ مالی سال میں تقریباً 9 ارب ڈالر خریدے گئے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں بہتری آئی۔انہوں نے کہا کہ 17 جولائی 2026 تک پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 22.6 ارب ڈالر تھے جن میں 17.2 ارب ڈالر سٹیٹ بینک اور 5.4 ارب ڈالر کمرشل بینکوں کے پاس موجود تھے ۔گورنر سٹیٹ بینک نے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کے بیلنس آف پیمنٹس سپورٹ پیکیج کی مبینہ درخواست پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ آئندہ مالی سال 2027-28 میں آئی ایم ایف کی جانب سے بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں میں ممکنہ اضافے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس کا جائزہ مناسب وقت پر لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ مالی سال میں پاکستان بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے حوالے سے مطمئن اور پراعتماد ہے جبکہ سٹیٹ بینک مستقبل میں بھی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ جاری رکھے گا تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں سمیت کسی بھی بیرونی معاشی جھٹکے کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments