4 برس میں بجلی بلوں پر 1 ہزار 866 ارب ٹیکس وصولی

4 برس میں بجلی بلوں پر 1 ہزار 866 ارب ٹیکس وصولی

بجلی شعبے پرچھوٹ ختم کر یں تو مزید ٹیکس جمع کیا جا سکتا:چیئرمین ایف بی آر

 اسلام آباد (مدثر علی رانا)دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران عوام سے بجلی کے بلوں پر سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی مد میں ایک ہزار 866 ارب روپے سے زائد وصول کیے گئے ۔ مالی سال 2023 میں 312 ارب 81 کروڑ روپے ، مالی سال 2024 میں 515 ارب 47 کروڑ روپے ، مالی سال 2025 میں 561 ارب 99 کروڑ روپے اور مالی سال 2026 میں 476 ارب 12 کروڑ روپے بجلی بلوں کے ذریعے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی مد میں وصول کیے گئے ۔

گزشتہ چار برسوں میں فردر ٹیکس اور ایکسٹرا ٹیکس کی مد میں 308 ارب روپے سے زائد بھی اکٹھے کیے گئے ۔ مالی سال 2023 میں سیلز ٹیکس کی مد میں 213 ارب 22 کروڑ روپے ، مالی سال 2024 میں 385 ارب 45 کروڑ روپے اور مالی سال 2025 میں 416 ارب 42 کروڑ روپے وصول کیے گئے جبکہ انکم ٹیکس ودہولڈنگ کی مد میں مالی سال 2023 میں 99 ارب 59 کروڑ روپے ، مالی سال 2024 میں 130 ارب ایک کروڑ روپے اور مالی سال 2025 میں 145 ارب 57 کروڑ روپے جمع کیے گئے ۔

سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ایف بی آر حکام نے بتایا کہ مالی سال 2026 کے دوران بجلی کے بلوں پر 476 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا جس میں 351 ارب روپے سیلز ٹیکس اور 124 ارب روپے انکم ٹیکس شامل ہیں۔چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کمیٹی کو بتایا کہ گھروں میں استعمال ہونے والی ماچس سے لے کر بڑی اشیا تک تقریباً ہر چیز پر ٹیکس عائد ہے جبکہ ہر مالی سال تقریباً 500 ارب روپے کے ٹیکس کلیمز دائر نہیں کیے جاتے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر بجلی کے شعبے کو دی گئی ٹیکس چھوٹ ختم کر دی جائے تو مزید ٹیکس وصول کیا جا سکتا ہے ، اس لیے ان استثنیٰ پر نظرثانی ہونی چاہیے ۔سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ بجلی بلوں کے ذریعے ٹیکس وصولی عوام پر غیر معمولی بوجھ ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...